Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
151 - 412
حکایت نمبر314:             غلامئ سادا ت کی برکات
    حضرت سیِّدُنا احمدبن خَصِیب علیہ رحمۃ اللہ الحسیب وزیربننے سے قبل کاایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:''میں خلیفہ مُتَوَکِّل کی والدہ کاکاتب تھا، ایک دن میں کچہری میں بیٹھاہواتھاکہ خادم ایک تھیلالئے ہوئے میرے پاس آیااورکہا:''اے احمد!خلیفہ کی والدہ آپ کوسلام کہتی ہے ،اس نے یہ ہزار دیناربھجوائے ہیں اورکہاہے کہ'' یہ دینارمیرے حلال وطیب مال میں سے ہیں ، انہیں مُسْتَحِقِّیْن میں تقسیم کرکے ان کے نام ونسب اورمکمل پتہ لکھ کرہمیں بھجوادو تاکہ جب کبھی ان علاقوں سے کوئی ہمارے پاس آئے توہم ان کی طرف ہدیہ بھجوادیں ۔''

    میں نے وہ دینار لئے اوراپنے گھرچلا آیا۔ اب میں اس فکرمیں تھاکہ ایساکون ہے جومجھے ان لوگوں کے نام بتائے جو تنگدستی وغربت کے باوجود سفیدپوش ہیں اورکسی کے سامنے دستِ سوال درازنہیں کرتے ،کیونکہ ایسے لوگ ہی مالی امداد کے زیادہ مستحق ہیں۔بالآخرشام تک میرے پاس غریب و تنگدست اور سفیدپوش وخودارلوگوں کی ایک فہرست تیارہوگئی۔میں نے تین سو (300) دینار ان میں تقسیم کردیئے،اب کوئی اورایسانہ تھاجسے رقم دی جاتی ،رات نے آہستہ آہستہ اپنے پر پھیلا دیئے ۔ میرے پاس سات سو(700)دینارموجود تھے لیکن اب کوئی بھی ایساشخص معلوم نہ تھاجس کی مدد کی جاتی۔رات کاایک حصہ گزرچکا تھا۔ میرے سامنے کچھ سرکاری غلام موجود تھے ،باہرپہرے دارپھررہے تھے،برآمدے کے دروازے بند کردیئے گئے تھے۔ میں بقیہ دیناروں کے بارے میں فکرمند تھاکہ دروازے پرکسی نے دستک دی ،پھرچوکیدار کی آوازسنائی دی وہ آنے والے سے پوچھ گَچھ کر رہاتھا۔میں نے خادم بھیجاتواس نے بتایاکہ دروازے پرایک سیدزادہ ہے جوآپ کے پاس آنے کی اجازت چاہتاہے ۔ میں نے کہا:'' اسے اندربلالاؤ پھراپنے پاس موجود تمام لوگوں سے کہا:''اس وقت یہ ضرورکسی حاجت کے پیشِ نظر آرہا ہوگا ، ہو سکتا ہے تمہارے سامنے حاجت بیان کرنے میں اسے جھجک محسوس ہوتم ایک طرف ہوجاؤ۔''جب وہ سب چلے گئے توسیدزادہ میرے پاس آیااورسلام کرے بیٹھ گیا،پھرکہنے لگا:''اس وقت آپ کے سامنے ایساشخص موجودہے جسے حضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے خاص قربت ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !ہمارے پاس ایسی کوئی چیز نہیں جس سے ہماراگزارہ ہو سکے اورنہ ہی ہمارے پاس دیگر لوگوں کی طرح درہم ودینار ہیں کہ ہم اپنے لئے کھانے کی کوئی چیز خرید سکیں۔ہمارے پڑوس میں آپ کے علاوہ ایساکوئی شخص نہیں جواس کڑے وقت میں ہماری مدد کرسکے ۔''

    میں نے اس کی گفتگو سن کرایک دینار اسے دے دیا اس نے میراشکریہ اداکیااوردعائیں دیتاہوا رخصت ہوگیا۔ پھر میری زوجہ میرے پاس آئی اورکہنے لگی:'' اے بندۂ خداعَزَّوَجَلَّ ! تجھے کیاہوگیا؟خلیفہ کی والدہ نے تجھے یہ دینارمستحقین میں تقسیم
Flag Counter