Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
150 - 412
     اس نے کہا:''اس وقت میری زندگی کتنی خوشگوارتھی جب معاملہ میرے اورمیرے پروردگارعَزَّوَجَلَّ کے درمیان تھا۔ اب جب آپ پرمیرامعاملہ ظاہرہوچکاعنقریب کسی اورپربھی میراحال ظاہرہوجائے گااورمیں اس حالت میں زندہ رہناپسند نہیں کرتا۔''اتناکہہ کروہ منہ کے بَل زمین پر تشریف لے آیااورتڑپتے ہوئے بڑے دردمندانہ اندازمیں یوں مناجات کرنے لگا: ''میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ! مجھے ابھی ہی اپنے پاس بلالے ''پھراچانک وہ ساکت ہوگیا،میں قریب گیاتواس کی بے قرارروح قَفَسِ عُنْصُرِی سے پرواز کرکے خالقِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں سجدہ ریزی کے لئے روانہ ہوچکی تھی ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!جب بھی اس نیک سیرت غلام کاخیال آتاہے میں بہت غمگین ہوجاتاہوں اور دنیامیری نظرمیں انتہائی حقیرہوجاتی ہے۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)

    (میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کتنامخلص ومقبول تھاوہ نیک سیرت غلام!حقیقت میں وہ غلام نہیں بلکہ ہماراسردارتھا۔جوبھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کامقبول بندہ ہے وہ واقعی سرداری کے لائق ہے۔اورجوسرداروبادشاہ ،خدائے اَحْکَمُ الْحَاکِمِیْن کی اطاعت نہیں کرتے وہ اس لائق کہاں کہ انہیں عزت کی نظرسے دیکھاجائے ،ایسے بدبخت توقابلِ نفرت ومستحقِ عذاب ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اخلاص عطافرمائے اوراس مقبول،مخلص وبے ریاکے صدقے ریاکاری کی تباہ کاری سے محفوظ فرمائے، ہرگھڑی عبادت کی توفیق عطافرمائے،نیکوکار اور مخلص وفرمانبرداربنائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)