Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
149 - 412
مَیں نے کہا:'' مَیں حضرتِ سیِّدُنا سُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی اور حضرتِ سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیَاض علیہ رحمۃ اللہ الوھاب کے حکم پر آیا تھا، کیا ان کا کام پورا کئے بغیر واپس چلا جاؤں ؟'' 

    یہ سن کر بوڑھے نے کہا :''آپ کے مجھ پر بہت احسانات ہیں آپ اسے لے جائیں۔'' میں نے فوراً غلام کی قیمت ادا کی اور اسے لے کر حضر تِ سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیَاض علیہ رحمۃ اللہ الوھاب کے گھر کی طرف چل دیا۔ ابھی ہم کچھ ہی دیر چلے تھے کہ اس نیک سیرت غلام نے مجھے پکارا: میرے آقا!''میں نے کہا:''لَبَّیْک(میں حاضر ہوں)''اس نے کہا:''حضور! یہ آپ کے شایانِ شان نہیں کہ مجھے لَبَّیْک کہیں، میں توآپ کا غلام ہوں اورغلام پر لازم ہے کہ وہ اپنے آقا کو لَبَّیْک کہے۔'' میں نے کہا:'' اے میرے دوست! بتاؤ،کیا چاہتے ہو ؟'' کہا:'' حضور! میں کمزور وضعیف ہوں ،مجھ میں اتنی طا قت نہیں کہ آپ کی خدمت کر سکوں، آپ میرے علاوہ کوئی اور غلام خریدلیتے، مجھ سے کہیں زیادہ طاقتور صحت مند غلام آپ کے سامنے لائے گئے، آپ نے ان میں سے کوئی غلام کیوں نہ خرید لیا تا کہ وہ آپ کی خوب خدمت کرتا ۔''میں نے کہا :''اللہ عَزَّوَجَلَّ جانتا ہے کہ میں نے تجھے اس لئے نہیں خریدا کہ تجھ سے خدمت کراؤں، میرے دوست میں تو تیرے لئے مکان خریدکرتیری شادی کراؤں گا اوردل وجان سے تیری خدمت کرو ں گا ۔''

    یہ سن کر وہ نیک سیرت غلام زار وقطار رونے لگا میں نے سببِ گریہ (یعنی رونے کا سبب )دریافت کیا تو کہا:'' آپ نے مجھے اسی لئے خریدا ہے کہ آپ نے میرے اور میرے پر وَردْگارعَزَّوَجَلَّ کے درمیان جو پوشیدہ معاملات ہیں ان میں سے کسی معاملہ کو جان لیا اگر ایسا نہ ہو تا توبقیہ تمام غلاموں کو چھوڑ کر مجھے نہ خریدتے ۔ میں آپ کواللہ عَزَّوَجَلَّ کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں، مجھے بتائیے کہ آپ میرے کون سے راز پر مُطَّلِعْ ہوئے ہیں ؟ ''میں نے کہا:'' بارگاہِ خداوند ی میں تمہاری قبولیتِ دعا کو دیکھ کر۔'' اس نے کہا: ''میرا حسن ظن ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے اور آپ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نیک بندے ہیں ، بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں کہ وہ ان کی شان صرف انہیں پر ظاہر فرماتا ہے جواس کے پسندیدہ اورمقبول بندے ہوتے ہیں۔''پھرکہا:میرے آقا!اگرآپ اجازت عطافرمائیں تومیں اشراق کی نمازاداکرلوں ۔''میں نے کہا:''حضرتِ سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیَاض علیہ رحمۃ اللہ الوھاب کاگھرقریب ہی ہے وہیں چل کراداکرلینا۔'' کہا : ''حضور!مجھے یہیں اداکرنے کی اجازت دے دیں ،میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کومؤخَّرنہیں کرناچاہتا۔''پھروہ قریب ہی ایک مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھنے لگا،کافی دیر نمازمیں مشغول رہا اچانک اس پرعجیب کیفیت طاری ہوگئی،اس نے مجھ سے کہا:''اے ابو عبدالرحمن!کیاآپ کی کوئی حاجت ہے؟''میں نے کہا:''تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو؟''کہا:''میراکُوچ کاارادہ ہے ۔''میں نے کہا: ''کہاں جارہے ہو؟ '' کہا: ''آخرت کی طرف روانگی ہے۔''میں نے کہا:''میرے دوست ایسی باتیں نہ کرمیں تیرارازپوشیدہ رکھوں گا۔''