Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
148 - 412
بھی اس کے پیچھے ہولیا بالآخر وہ ایک گھر میں داخل ہوگیا میں نے اس گھر کی پہچان کرلی اور حضرت سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیَاض علیہ رحمۃ اللہ الوھّاب کے پاس چلاآیا۔''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھے دیکھا تو فرمایا:'' اے ابن مُبَارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ! کیا بات ہے میں تمہارے چہر ے پر غم کے آثار دیکھ رہا ہوں ؟'' میں نے کہا:'' ہم لوگ پیچھے رہ گئے اور ہمارے علاوہ کوئی اور ہم پر سبقت لے گیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے اپنی ولایت کی دولتِ عظمیٰ عطا فرمادی ۔''

    حضرتِ سیِّدُنافُضَیْل بن عِیَاض علیہ رحمۃ اللہ الوھاب نے فرمایا: ''مجھے اصل بات بتاؤ کہ آخرمعاملہ کیا ہے ؟'' میں نے اس صالح غلام کا سارا واقعہ کہہ سنایا۔ جیسے ہی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے واقعہ سنا ایک زور دار چیخ ماری اور زمین پر گِر کر تڑ پنے لگے۔پھر فرمایا: ''اے ابنِ مُبَارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ! تمہارا بھلا ہو ، مجھے فوراََ اس صالح غلام کے پاس لے چلو۔'' میں نے کہا:'' اب تو وقت بہت کم ہے ، اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ کل کچھ کریں گے ۔'' اگلے دن صبح صبح میں اس گھر کی طر ف چل دیا جس میں نیک سیرت غلام داخل ہواتھا ۔ وہاں پہنچا تو ایک بوڑھے شخص کودروازے کے پاس بیٹھا پایا ، وہ مجھے دیکھتے ہی پہچان گیا اور خوش آمدید کہتے ہوئے بڑے پُرتباک انداز میں ملاقات کی اور کہا:'' حضور! کوئی حکم ہو تو ارشاد فرمائیے؟'' میں نے کہا:'' مجھے ایک سیاہ فام غلام در کار ہے۔'' اس نے کہا:'' میرے پاس بہت سے سیاہ فام غلام ہیں میں سب کو بلالیتا ہوں، آپ جسے چاہیں پسند فرمالیں ۔'' یہ کہہ کر اس نے ایک غلام کو آوازدی تو ایک طاقتور غلام باہر آیا، بوڑھے نے کہا:'' حضور !یہ غلام آپ کے لئے بہت مناسب رہے گا۔'' میں نے کہا:'' مجھے یہ نہیں چاہے۔'' پھر اس نے دوسرا غلام بلایا میں نے انکار کردیا ، اس طرح اس نے سب غلام بلائے لیکن میرا مطلوب کوئی اور تھا۔ سب سے آخر میں وہی نیک سیرت غلام آیا تو اسے دیکھتے ہی میری آنکھیں نَمناک ہوگئیں میں وہیں بیٹھ گیا بوڑھے نے مجھ سے پوچھا:''کیا آپ اسی غلام کے طالب تھے ؟''

     میں نے کہا:'' ہاں! مجھے اسی ہیرے کی تلاش تھی۔'' بوڑھے نے کہا:'' حضور! میں اسے نہیں بیچ سکتا ، اس کے علاوہ آپ جس غلام کو چاہیں لے جائیں۔'' میں نے کہا:'' آخرآپ اس غلام کو کیوں نہیں بیچنا چاہتے ؟'' کہا:'' اس کا ہمارے گھر میں رہنا باعث بر کت ہے ، اس مردِ صالح سے ہم بر کت حاصل کرتے ہیں، اس نے مجھ سے کبھی بھی کوئی چیز نہیں مانگی۔'' میں نے کہا: ''پھر یہ کھانا وغیرہ کہا ں سے کھاتا ہے ؟'' کہا :''یہ روزانہ اتنی رسیاں بٹتا ہے کہ نصف درہم یا اس سے کچھ زیادہ کی فروخت ہو جائیں، انہیں بیچ کر یہ اپنا کھانا وغیرہ خریدتا ہے ،اگر اس دن فروخت ہوجائیں تو ٹھیک ورنہ دوسرے دن کے لئے انہیں لپیٹ رکھتا ہے ، مجھے میرے غلاموں نے بتایا کہ یہ ساری ساری رات عبادت میں گزار دیتا ہے ، نہ کسی سے میل جول رکھتااورنہ ہی فضول باتیں کرتاہے۔ اس کی اپنی ہی دنیاہے جس میں ہروقت مگن رہتا ہے۔جب سے میں نے اس کے ان پاکیزہ خصائل کے متعلق سنا اور اس کی یہ خوبیاں دیکھیں میں اسے دل کی گہرائیوں سے چاہنے لگا ہوں۔یہی وجہ ہے کہ میں اسے خود سے دور نہیں کرنا چاہتا۔''