Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
147 - 412
کا مستحق ہوگیا۔ شیطان لعین جوانسان کا عدوِّ مبین(یعنی کھلا دشمن ) ہے اس کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ مرتے وقت کسی طر ح اس کا ایمان بر باد ہوجائے۔ وہ ہر طر ح سے انسان کو راہِ ایمان سے ہٹا کر کفرکے تنگ وتاریک گڑھوں میں دھکیلنے کی کوشش کرتا ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں شیطانی حملوں سے محفوظ رکھے ،ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے ، وقت نزع ہمارے پاس شیطان نہ آئے بلکہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، بِاذ ْنِ پروردگاردو عالَم کے مالک و مختار عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تشریف لائیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ایمان کی سلامتی عطافرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)

؎ یا الٰہی ہر جگہ تیری عطا کا ساتھ ہو		جب پڑے مشکل شہِ مشکل کُشا کا ساتھ ہو !

یاالہٰی بھول جاؤں نزع کی تکلیف کو 		شادیئ دیدارِحسنِ مصطفی کاساتھ ہو!
حکایت نمبر313:      حضرتِ ا بنِ مُبَارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اورسیاہ فام غلام
    حضرتِ سیِّدُنا حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مُبَارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :''ایک مرتبہ جب میں مکہ مکرمہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَکْرِیْمًا گیا تو معلوم ہوا کہ اس سال وہاں بالکل بارش نہیں ہوئی۔ پورے شہر میں قحط کی سی کیفیت تھی، لوگ مسجد حرام میں جمع ہوکر بارش طلب کر رہے تھے ۔ میں ''بابِ بنی شَیبہ'' کے قریب کھڑا تھا اتنے میں ایک سیاہ فام غلام آیااس کے جسم پردوموٹی کھردری چادریں تھیں ایک کاتہبندباندھاہوا تھا اور دوسری کندھے پر اوڑھی ہوئی تھی وہ ایک جگہ چھپ گیا،مجھے اس کی آواز سنائی دی وہ بارگاۂ خدواندی عَزَّوَجَلَّ میں اس طر ح مناجات کر رہا تھا :

    ''الٰہی عَزَّوَجَلَّ ! تو نے ہر طر ح کے لوگ پیدا فرمائے ،کچھ تو ایسے ہیں کہ گناہوں کا انبار ان کے سروں پر ہے اور وہ بُرے اعمال کے مرتکب ہیں۔ میرے رحیم وکریم پر وَردْگار عَزَّوَجَلَّ ! تو نے ہم سے بارش کوروک لیا تا کہ لوگو ں کو ان کے اعمال کی سزا ملے اور وہ راہ ِراست پر گامزن ہوں ۔اے حلیم ولطیف ! اے میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ! تیری ذات ایسی ہے کہ لوگ تجھی سے کرم کی امید رکھتے ہیں، میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! اپنے بندوں کو بارانِ رحمت عطا فرما۔''

     حضرتِ سیِّدُنا ابن مُبَارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:'' اس غلام کی دعا مکمل بھی نہ ہونے پائی تھی کہ ہر طرف گھنگور گھٹائیں چھا گئیں ، ٹھنڈی ہوائیں بارانِ رحمت کا مژدہ سنانے لگیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے رحمت کی بر سات چھما چھم ہونے لگی مرجھائی کلیاں کھِل اُٹھیں اور ہر طرف خوشی کا سماں ہوگیا ۔وہ سیاہ فام غلام جو حقیقتاً مقبولِ بارگاہِ خداوندی تھا، اپنی جگہ بیٹھا ذکر الٰہی میں مشغول رہا۔ میرا دل بھر آیااور آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔پھر وہ نیک غلام اپنی جگہ سے اٹھا اور ایک جانب چل دیا۔ میں
Flag Counter