Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
146 - 412
کرنے کا حکم دیں ، اگر میں کوئی برا کام کرو ں تو مجھے زجر وتو بیخ کریں، میں آپ کی باتوں پر دل وجان سے عمل کروں گا۔''

    چنانچہ، یہ نیک لوگ بادشاہ کے پاس رہتے جب بھی وہ کوئی کام کرتا تو ان بزرگوں سے مشورہ کرتا اگر اجازت دیتے تو کرتا ورنہ ترک کردیتا ۔ اس طر ح اس کے ملک میں امن وامان قائم ہوگیا ۔ وہ ملک ہر طر ح سے مضبوط و مستحکم ہوگیا۔ چار سوسال تک یہ بادشاہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت میں رہ کر حکومت کرتا رہا ، لوگ اسے بہت پسند کرتے ۔ پھر شیطان لعین اس کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: ' ' میں نے ایک بادشاہ کو چھوڑے رکھایہاں تک کہ وہ چار سو سال سے اللہکی عبادت کررہا ہے ، اب میں اسے ضرور بہکاؤں گا۔'' چنانچہ، شیطان اس بادشاہ کے پاس انسانی صورت میں آیا، با دشاہ اسے دیکھ کر خوفزدہ سا ہوگیا پھر ڈرتے ہوئے پوچھا : '' توکون ہے ؟'' کہا: ''میں ابلیس ہوں، اگر خیریت چاہتے ہو تو بتا ؤ کہ تم کون ہو ؟'' بادشاہ نے کہا:'' میں آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوں۔'' شیطان نے اپنا خطرناک وار کرتے ہوئے کہا:'' اگر تو آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوتا تَو کب کا مر چکا ہوتا جیسے دوسرے انسان مرگئے۔ تو خود دیکھ لے کہ تیرے سامنے کتنے لوگ اس دنیا سے جاچکے ہیں اگر تو بھی ان کی طر ح ہوتا تو کب کا مرچکا ہوتا، تُو انسان نہیں بلکہ خدا ہے (مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ)تُو لوگو ں کو اپنی عبادت کی طرف بلا۔''

     شیطان لعین کی یہ کفر یہ باتیں بیوقوف وبدبخت بادشاہ کے د ل میں اُتر گئیں اور وہ اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگا ،پھرمنبر پر کھڑے ہوکر اس نے لوگو ں سے کہا:'' اے لوگو ں ! ایک بہت بڑا راز میں نے تم سے چھپائے رکھا ، آج تک میں نے تمہارے سامنے اس کا اظہار نہ کیا،میں چار سوسال سے تم پر حکومت کر رہا ہوں اگر میں انسان ہوتا تو جس طرح دوسرے انسان مرگئے اسی طر ح میں بھی مرچکا ہوتا ، میں انسان نہیں بلکہ خدا ہوں (مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ)آج سے تم سب میر ی عبادت کیا کرو۔'' جب بدبخت بادشاہ نے یہ کفر یہ کلمات زبان سے نکالے تو اس کو ایک جھٹکا لگا اور اچا نک اس پر لزرہ طاری ہوگیا۔اس کے دربار میں موجود کسی شخص کو حکم الٰہی پہنچا کہ'' اس سے کہہ دے کہ تو نے ایسی چیز کا دعویٰ کیا ہے جو صرف ہمارے لائق ہے تُو میری اطا عت چھوڑ کر میری نافرمانی کی طرف چل پڑا ہے ، مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم! میں اس پر (انتہائی ظالم بادشاہ) '' بُخْتْ نَصَّرْ '' کو مسلَّط کروں گا جو اس کو واصلِ جہنم کرکے اس کا تمام خزانہ لے لے گا۔''

    اس دور میں اللہ عَزَّوَجَلَّ جس سے ناراض ہوتا اس پر'' بُخْتْ نَصَّر ''کو مسلط کر دیتا ، بادشاہ کفر یہ کلمات بک کرابھی منبر سے اُتر نے بھی نہ پایا تھا کہ اس پر'' بُخْتْ نَصَّر'' کو مسلط کردیا گیا۔اس نے بدبخت ونامراد بادشاہ کوقتل کرکے اس کے خزانوں پر قبضہ کرلیا ، حاصل شدہ خزانے میں اتنا سونا تھا کہ اس سے ستر کشتیاں بھرگئیں ۔

    (میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حکایت میں ہمارے لئے عبرت ہی عبرت ہے ۔ چار سو سال تک عبادتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں مصرو ف رہنے والے بادشاہ پر جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر غالب آئی تو ایمان جیسی عظیم دولت سے محروم ہو کر دائمی عذابِ نار