اے شَقِیق علیہ رحمۃ اللہ اللطیف!مومن کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ اپنے تمام اُمور میں اُس مرتبے ومقام کو پسند کرتا ہے جو اعلیٰ ونفیس ہو یہاں تک کہ وہ نیکوکاروں کے مرتبہ تک پہنچ جاتا ہے ۔''حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اَ دْہَم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم کی حکمت بھری باتیں سن کر حضرتِ سیِّدُنا شَقِیق بَلْخِی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ہاتھ پکڑا اور بڑی محبت سے بوسہ دیتے ہوئے کہا: ''حضور! آج سے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ استاذاور میں شاگرد ہوں ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
( میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خدائے بزرگ وبَر تر تمام جہانوں کا پالنے والااپنی تمام مخلوق کو رزق عطا فرماتا ہے۔ جسے جیسے چاہتاہے رزق دیتا ہے ۔ انسان کو اس معاملے میں توکُّل کرنا چاہے کیونکہ جس کے مُقدَّر میں جو ہے وہ اسے ضرور مل کر رہے گا ۔ بس انسان اپنی سی کو شش کرتا رہے، رزقِ حلال کے لئے تگ ودو کرتا رہے لیکن یہ خیال ضرور رکھے کہ فرائض وواجبات کو ہر گز ہرگز ترک نہ کرے ورنہ خسارہ ہی خسارہ ہے۔ رزق وہی اچھا جس کی وجہ سے اعمالِ صالحہ میں تقویت ملے، اگرمعاملہ برعکس ہویعنی مال و کاروبارکی وجہ سے اعمالِ دینیہ میں کمی ہو رہی ہو تو ایسا مال وکا روبار کچھ کام نہ آئے گا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعاہے کہ وہ ہمیں رزق حلال عطا فرمائے ،دنیوی اور اُخروی زندگی میں سلامتی عطا فرمائے اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)