حضرتِ سیِّدُنا خَلَف بن تَمِیم علیہ رحمۃ اللہ الرحیم سے منقول ہے، ایک مرتبہ دو عظیم بزرگ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اَ دْہَم اور حضرتِ سیِّدُناشَقِیق بَلْخِی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما مکہ مکرمہ زَادَ ھَا اللہُ شَرَفاً وَّتَعْظِیْماً پہنچے۔ جب دونوں کی ملاقات ہوئی تو حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہَم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم نے حضرتِ سیِّدُناشَقِیق علیہ رحمۃاللہ الرفیق سے پوچھا :'' وہ کون سا پہلا واقعہ ہے جس کی وجہ سے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو یہ عظمت و بزرگی نصیب ہوئی ؟''
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ایک مرتبہ میں جنگل میں تھا اچانک مجھے ایک پرندہ نظر آیا جس کے پر ٹوٹے ہوئے تھے،میں نے اپنے دل میں کہا: یہ پرندہ اپنی غذا کیسے حاصل کرتا ہوگا؟ بس اس خیال کے آتے ہی میں وہیں کھڑا ہوگیا اور ارادہ کیا کہ آج یہ دیکھ کرجاؤں گا کہ اس پرندے کو غذا کہا ں سے ملتی ہے ؟ میں وہیں کھڑا سوچتا رہا۔ کچھ دیر بعد ایک پرندہ اپنی چونچ میں ایک ٹِڈی پکڑے ہوئے وہاں آیا اوراس ٹُو ٹے پروں والے پرندے کے منہ میں وہ ٹڈی ڈال کر واپس اڑگیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اس شانِ رزّاقی پر میں عَش عَش کراٹھا اور اپنے نفس سے کہا :'' اے نفس! جس خدائے بزرگ وبَر تر ،خالق ومالک نے صحیح وسالم پرندے کے ذریعے جنگل وبیابان میں اس پر ٹوٹے ہوئے پر ندے کو رزق عطا فرمایا وہ پر وردگار عَزَّوَجَلَّ مجھے رزق عطافرمانے پر قادر ہے، چاہے میں کہیں بھی ہوں۔'' بس اس دن سے میں نے تمام دنیوی مشاغل ترک کردیئے اور عبادتِ الٰہی میں مصروف ہوگیا اور آج آپ کے سامنے ہوں۔''
یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اَ دْہَم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم نے فرمایا:'' اے شَقِیق علیہ رحمۃ اللہ اللطیف ! تم اس پر ندے کی طر ح کیوں نہ ہوگئے جوتندرست تھا اور بیمار پرندے تک اس کا رزق پہنچا رہا تھا۔ اگر تم اس جیسے ہوتے تو تمہارے لئے بہت اچھا تھا، کیا تم نے شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا یہ فرمانِ تقرب نشان نہیں سنا :''اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہترہے۔ ''