Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
141 - 412
ڈال دیا ۔ پھر بادشاہ شہزادے کے متعلق سوچنے لگا ، اچانک اس نے دونوں سپاہیوں کو بلوایا جب وہ سامنے آئے تو کہا:'' تم دونوں نے میرے بیٹے کو خوفزدہ کیا اسی لئے وہ مجھ سے دور چلاگیا ،اے جَلَّاد! انہیں پکڑ کر لے جا اور ان کے سر قلم کردے۔'' پھر شہزادے کی دوسری بیوی کو بلوایا اور کہا:'' تونے میرے بیٹے کا راز فاش کیا تیری وجہ سے وہ مجھ سے دور چلا گیا اگر تو اس کے راز کو چھپاتی تو آج وہ میری آنکھوں کے سامنے ہوتا، اے جلاد! اسے بھی قتل کردے۔'' پھر بادشاہ نے تیسرے سپاہی اور شہزادے کی مُطَلَّقَہ کو بلایا اور کہا: '' تم دونوں جہاں چاہو جاؤ، میری طر ف سے تم آزاد ہو۔''

    وہ نیک سیرت عورت اپنے شہر کے دروازے کے پاس ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہنے لگی۔ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر بیچتی اور اپنا گزارہ کرتی۔ایک دن ایک غریب شخص اس طر ف آنکلا اس نے جھونپڑی دیکھی توقریب آیا اور''بسم اللہ'' شریف پڑھنے لگا ، عورت اس کی آواز سن کر باہر آئی اورکہا:'' اے مسافر !کیا تواللہ عَزَّوَجَلَّ کے متعلق جانتا ہے ؟ کیا تو اس ''وَحدَہٗ لاَشریک'' ذات پر ایمان رکھتا ہے ؟'' اس نے کہا:'' ہاں ! میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کو مانتا ہوں، میں شہزادہ خضر کا دوست ہوں۔'' عورت نے یہ سنا توکہا:'' میں خضر کی مُطَلَّقَہ ہوں ۔''پھران دونوں نے شادی کرلی ، اللہ ربُّ العزَّت نے انہیں اولاد کی دولت سے نوازا اس طر ح ان کی زندگی کے شب وروز خیریت سے گزرتے رہے ۔

     اس عورت کو فرعون کی بیٹی نے اپنی خادمہ رکھ لیا ایک دن اس کے سر میں کنگھی کرتے ہوئے کنگھی ہاتھ سے گر گئی ، تو اس نیک سیر ت عورت کی زبان سے بے اختیار ''سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ'' کی صدابلند ہوئی ،فرعون کی کافرہ بیٹی نے جب یہ آوازسنی تو کہا: ''کیا تُونے میرے باپ فرعون کی تعریف کی ہے ؟'' اس مؤمنہ نے جواباً کہا: '' نہیں ! میں نے تیرے باپ کی تعریف نہیں کی بلکہ میں نے تو اس پاک پرودرگار عَزَّوَجَلَّ کی پاکی بیان کی ہے جو میرا، تیرے باپ فرعون کا اور تمام کائنات کا خالق ہے ، عبادت کے لائق صرف وہی ''وَحدَہٗ لا شریک ''ذات ہے۔'' اس مؤمنہ کی ایمان بھری گفتگو سن کر فرعون کی بیٹی نے کہا: ''میں تمہارے بارے میں اپنے والد کو بتاؤں گی کہ تم اسے خدا نہیں مانتی۔'' عورت نے کہا:''بے شک بتادو۔'' فرعون کی بیٹی نے اپنے باپ کو بتایا تو اس نے نیک سیرت مؤمنہ کو اپنے پاس بلایا اور کہا:'' ہم نے سنا ہے کہ تُو ہمارے علاوہ کسی اور کو خدامانتی ہے ، تیری سلامتی اسی میں ہے کہ تُو اس نئے مذہب کو چھوڑ کر ہماری عبادت کر اور ہمیں خدا مان ورنہ تجھے دردناک سزادی جائے گی۔'' عورت نے کہا: ''جو چاہے کر، میں کبھی بھی شرک کی طرف نہ آؤں گی۔'' فرعون نے جب ایک ایمان دار اورنیک سیرت عورت کی ایمان افروز گفتگو سنی تو بہت غضب ناک ہواا ور تانبے کی دیگ میں تیل گرم کرنے کا حکم دیا۔ جب تیل خوب کھولنے لگا تو اس کے بچے کو اُبلتے ہوئے تیل میں ڈال دیا ، کچھ ہی دیر میں بچے کی ہڈیاں تیل پر تیر نے لگیں۔ظالم فرعون نے عور ت سے کہا:''کیا تو مجھے خدا مانتی ہے ؟'' اس نے کہا:'' ہرگز نہیں، میرا خدا وہی ہے جو تمام جہانوں کا خالق ومالک ہے ۔''