فرعون نے اس کا دوسرا لڑکا منگوایا اور اُبلتی ہوئی دیگ میں ڈال دیا ۔ پھر اس عورت کو شرک کی دعوت دی اس نے صاف انکار کر دیا۔ فرعون نے اس کے ایک اور بچے کو تیل میں ڈال دیا ۔ اسی طر ح اس باہمت صابرہ وشاکرہ عورت کے تمام بچو ں کو ابلتے ہوئے تیل میں ڈال دیا لیکن اس نے اپنا ایمان نہ چھوڑا ۔ ظالم فرعون نے حکم دیا کہ اسے بھی اس کے بچوں کی طر ح تیل میں ڈال دو! سپاہی جب اسے لے جانے لگے تو فرعون نے کہا:'' اگر تمہاری کوئی آرزو ہو تو بتاؤ۔''کہا:'' ہاں! میری ایک خواہش ہے اگر ہو سکے تو یہ کرنا کہ جب مجھے تیل کی ابلتی ہوئی دیگ میں ڈال دیا جائے اور میرا سارا گو شت جل جائے تو اس دیگ کو شہر کے دروازے پر بھجوادینا وہاں میری ایک جھونپڑی ہے دیگ اس میں رکھوا کر جھونپڑی گرا دینا تاکہ ہمارا گھر ہی ہمارے لئے قبرستان بن جائے ۔'' فرعون نے کہا:'' ٹھیک ہے، تمہاری اس خواہش کو پورا کرناہمارے ذِمَّہ ہے ۔'' پھر اس جرأ ت مند ، مؤمنہ کو اُبلتے ہوئے تیل میں ڈال دیا گیا کچھ ہی دیر بعد اس کی ہڈیاں بھی تیل کی سطح پر تیرنے لگیں۔
حضرت سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ'' نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم، شافعِ اُمَم رسولِ مُحتَشَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:''شب ِ معراج، میں نے ایک بہترین خوشبو سونگھی تو کہا : اے جبریل (علیہ السلام)! یہ خوشبو کیسی ؟ کہا : فرعون کی بیٹی کی خادمہ اور اس کے بچو ں کی خوشبو ہے ۔''