Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
142 - 412
     فرعون نے اس کا دوسرا لڑکا منگوایا اور اُبلتی ہوئی دیگ میں ڈال دیا ۔ پھر اس عورت کو شرک کی دعوت دی اس نے صاف انکار کر دیا۔ فرعون نے اس کے ایک اور بچے کو تیل میں ڈال دیا ۔ اسی طر ح اس باہمت صابرہ وشاکرہ عورت کے تمام بچو ں کو ابلتے ہوئے تیل میں ڈال دیا لیکن اس نے اپنا ایمان نہ چھوڑا ۔ ظالم فرعون نے حکم دیا کہ اسے بھی اس کے بچوں کی طر ح تیل میں ڈال دو! سپاہی جب اسے لے جانے لگے تو فرعون نے کہا:'' اگر تمہاری کوئی آرزو ہو تو بتاؤ۔''کہا:'' ہاں! میری ایک خواہش ہے اگر ہو سکے تو یہ کرنا کہ جب مجھے تیل کی ابلتی ہوئی دیگ میں ڈال دیا جائے اور میرا سارا گو شت جل جائے تو اس دیگ کو شہر کے دروازے پر بھجوادینا وہاں میری ایک جھونپڑی ہے دیگ اس میں رکھوا کر جھونپڑی گرا دینا تاکہ ہمارا گھر ہی ہمارے لئے قبرستان بن جائے ۔'' فرعون نے کہا:'' ٹھیک ہے، تمہاری اس خواہش کو پورا کرناہمارے ذِمَّہ ہے ۔'' پھر اس جرأ ت مند ، مؤمنہ کو اُبلتے ہوئے تیل میں ڈال دیا گیا کچھ ہی دیر بعد اس کی ہڈیاں بھی تیل کی سطح پر تیرنے لگیں۔ 

    حضرت سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ'' نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم، شافعِ اُمَم رسولِ مُحتَشَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:''شب ِ معراج، میں نے ایک بہترین خوشبو سونگھی تو کہا : اے جبریل (علیہ السلام)! یہ خوشبو کیسی ؟ کہا : فرعون کی بیٹی کی خادمہ اور اس کے بچو ں کی خوشبو ہے ۔''
(کنزالعمال، کتاب الفضائل،باب فی فضائل من لیسوا من الصحابۃ وذکرہم ،الحدیث ۳۷۸۳۴،ج۱۴،ص۹)
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)

    (سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! کیسا پختہ ایمان تھا اس مؤمنہ،صابرہ و شاکرہ عورت کا کہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو ایک ایک کر کے شہید ہوتا دیکھا لیکن پھر بھی اس کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی۔ خود اپنی جان دے دی لیکن ایمان کی دولت ہاتھ سے نہ جانے دی۔ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! جنہیں ایمان کی قدر معلوم ہوتی ہے وہ کسی بھی قیمت پر لمحہ بھر کے لئے ایمان نہیں چھوڑ تے، انہیں دین وایمان کی خاطر سرکٹا نے میں لذتِ ایمانی ملتی ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں جان دینا انہیں محبوب ہوتا ہے ، دنیا کی تمام مصیبتیں اور غم اس وقت کا فور ہوجائیں گے جب جنت کی نعمتوں میں غوطہ دیا جائے گا ۔

     خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! اگر دنیا میں انسان کے پاس دنیوی نعمتوں کی بہت زیادہ کمی ہو لیکن ایمان کی دولت اس کے سینے میں ہو اور ایمان سلامت لے کر دنیا سے چلا جائے تو وہ کامیاب ہے۔ ہر مسلمان کو اپنے ایمان کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے۔ گناہوں کی نحوست سے ایمان خطرے میں پڑجاتاہے۔ جب بھی کوئی گناہ سرزد ہوفوراً سچے دل سے تو بہ کرلینی چاہے ۔ہوسکے توسونے سے پہلے'' صلوٰۃُ التوبہ'' پڑھ لی جائے۔
Flag Counter