Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
140 - 412
عبادت کرو ں گی۔'' شہزادے نے کہا:''اگر یہی بات ہے تو میرا راز کسی پر ظاہر نہ کرنا ،اگر تو میرا راز چھپائے گی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے اپنے حفظ وامان میں رکھے گا۔ اگر میرا راز فاش کرے گی تواللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے ہلاکت میں مبتلا کردے گا ۔'' اس نے یقین دہانی کرائی کہ میں یہ راز پوشیدہ رکھوں گی۔ چنانچہ، دونوں میاں بیوی دن رات اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں مشغول رہنے لگے۔ ایک سال گزرنے کے باوجود ان کے ہاں اولاد نہ ہوئی تو بادشاہ نے اپنی بہو کو بلایا اور کہا :'' میرا بیٹا بالکل نوجوان ہے تم بھی جوان ہو ، پھر بھی تمہارے ہاں اولاد کیوں نہ ہوئی؟'' سعادت مند و وفاشِعار بیوی نے کہا:'' اولاداللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے ہوتی ہے، جب وہ چاہے گا اولاد عطا فرمائے گا۔'' پھر بادشاہ نے اپنے بیٹے خضر کو بلایا اور کہا:'' ایک سال گزرنے کے باوجود تمہارے ہاں اولاد کیوں نہ ہوئی ؟'' کہا :'' اولاد حکمِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ سے ہوتی ہے ، جب وہ چاہے گا عطا فرمادے گا۔''

     پھر بادشاہ سے کہا گیا: شاید! یہ عورت بانجھ ہے اسی لئے اولاد نہ ہوئی ، آپ شہزادے کی شادی کسی ایسی عورت سے کرائیں جو بانجھ نہ ہو اور اس کے ہاں اولاد ہوچکی ہو۔ بادشاہ نے شہزادے کو بلایا اور حکم دیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو ، شہزادے نے کہا: ''ابا جان ! اسے مجھ سے جدا نہ کریں، وہ بڑی بابر کت اور قابلِ رشک عورت ہے ۔'' بادشاہ نے کہا:'' تجھے میری بات ماننا پڑے گی، بالآخر شہزادے نے سرِتسلیم خم کرتے ہوئے مجبوراً طلاق دے دی ۔'' بادشاہ نے شہزادے کی شادی ایک بیوہ سے کرادی جس کے ہاں پہلے بھی اولاد ہوچکی تھی ۔ شہزادہ جب اپنی اس نئی دلہن کے پاس پہنچا تو اس سے بھی وہ بات کہی جو پہلی بیوی سے کہی تھی۔ اس نے بھی شہزادے کے ساتھ رہ کر عبادت کرنا منظور کرلی ، دن رات دونوں عبادتِ الٰہی میں مصروف رہتے ، ان کے درمیان ایک مرتبہ بھی ازدواجی تعلق قائم نہ ہو ا۔ سال گزرنے کے باوجود جب اولاد کے آثا ر نظر نہ آئے تو بادشاہ نے اس عورت کو اپنے پاس بلایا اور کہا: ''اپنے پہلے خاوند سے تیرے ہاں اولاد ہوئی ، اب میرے بیٹے کی اولاد تجھ سے کیوں نہ ہوئی ، حالانکہ میرا بیٹا خوبر و نوجوان ہے اور تو بانجھ بھی نہیں۔'' اس نے کہا:'' اولا د جبھی ہوتی ہے جب میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہو آپ کا بیٹا تو ہر وقت عبادت وریاضت میں مشغول رہتا ہے ، اس نے ایک مرتبہ بھی وظیفۂ زوجیت ادا نہیں کیا۔'' 

    بادشاہ یہ سن کر بہت غصہ ہوا ، اس نے خادم بھیج کر شہزادے کو بلوایا ، لیکن شہزادہ وہاں سے بھاگ گیا ۔ تین سپاہی اس کے پیچھے گئے تو شہزادہ مل گیا ۔ سپاہیوں نے بادشاہ کے پاس لے جانا چاہا تو اس نے جانے سے انکار کردیا ۔ دو سپاہی لے جانے پر بضد رہے توتیسرے نے کہا:'' شہزادے پر سختی نہ کرو، اگر ہم اس وقت اسے بادشاہ کے پاس لے گئے تو ہوسکتا ہے کہ بادشاہ غصہ میں آ کر اپنے اس نیک بیٹے کو قتل کروا دے۔ بہتری اسی میں ہے کہ شہزادے کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ دونوں سپاہی تیسرے کی بات سے متفق ہوگئے اور شہزادے کو وہیں چھوڑ کر بادشاہ کے پاس پہنچے۔بادشاہ نے شہزادے کے متعلق پوچھا: تودو سپاہی کہنے لگے: عالی جاہ! ہم نے تو اسے پکڑا لیا تھا لیکن ہمارے رفیق نے اسے چھڑوا دیا۔ بادشاہ نے غصہ میں آکر تیسرے سپاہی کو قید میں