Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
139 - 412
وسلَّم سنانے کے عوض پانی کے چند گھونٹ اور روٹی کا ٹکڑابھی قبول نہیں کر و ں گا، خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! اگر تم اس مسجد کو چھت تک سونے سے بھر دو تب بھی میں حدیث کے عوض یہ دولت قبول نہیں کرو ں گا ۔'' یہ سن کر امین ومامون اس عظیم مُحَدِّث کے پاس سے واپس چلے آئے ،اس مردِ قلند ر نے ان سے ایک درہم بھی نہیں لیا۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)

    (سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ!ہمارے بزرگانِ دین کیسے خودد ارا ورمُتَوَکِّل ہوا کرتے تھے۔ ان کی نظروں میں دنیوی دولت وشہرت کی کچھ بھی اہمیت نہ تھی ۔وہ کسی بھی دنیادار کی دنیوی آسائشوں او رنعمتوں کو دیکھ کر مرعوب نہ ہوتے بلکہ بڑے بڑے امراء ووزراء پر ان بزرگ ہستیوں کا رُعب ودبدبہ ہوتا۔ سچ ہے کہ جواللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا ہے ہر چیزاس سے ڈرتی ہے ، جواللہ عَزَّوَجَلَّ پر توکل کرتا ہے اسے کسی کی محتاجی نہیں ہوتی ۔ہمارے اسلاف اپنے دینی منصب کو کبھی بھی ا پنے دنیوی فائدے کے لئے استعمال نہ کرتے۔انہیں اپنے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ پر یقینِ کا مل تھا۔)
حکایت نمبر309:         جان کی قربانی دینے والی مؤمنہ
    حضرتِ سیِّدُناسَدِی علیہ رحمۃ اللہ الولی سے منقول ہے کہ'' ایک بادشاہ بڑی عیش وعشرت سے شاہانہ زندگی گزار رہا تھا۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا جس کا نام ''خِضَر'' تھا۔ وہ بہت مُتّقِی وپرہیز گار تھا۔ ایک دن بادشاہ کے پاس اس کابھائی الیاس گیا اور کہا: ''بھائی جان! اب آپ کی عمر بہت ہوگئی ہے ، آپ کا بیٹا خضر حکومت میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا ، آپ خضر کی شادی کرادیں تاکہ اس کی اولاد میں سے کوئی آپ کا جانشین بن کر تختِ شاہی سنبھال لے اور اس طر ح حکومت ہمارے ہی خاندان میں رہے۔'' بھائی کی بات بادشاہ کو پسند آئی اس نے اپنے بیٹے کو بلا کر کہا: '' بیٹا ! تم شادی کرلو۔'' شہزادے نے انکار کیا تو بادشاہ نے کہا:'' تمہیں شادی ضرور کرنا پڑے گی۔ سعادت مند بیٹے نے جب باپ کا اصرار دیکھا تو شادی کے لئے تیار ہوگیا ۔ بادشاہ نے ایک دوشیزہ سے اس کی شادی کردی۔ شہزادہ اپنی رفیقۂ حیات کے پاس گیااور کہا:''مجھے عورتوں میں کچھ رغبت نہیں، اگر تو چاہے تو میرے ساتھ رہ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کر، تیرا نان ونفقہ شاہی خزانے سے ادا کیا جائے گا۔لیکن ہمارے درمیان ازدواجی تعلق قائم نہ ہوسکے گا ، اگر اس بات پر راضی ہے تو میرے ساتھ رہ اور اگر چاہے تو میں تجھے طلاق دے دیتاہوں ؟''

     سعادت مند بیوی نے کہا:'' میرے سرتاج! آپ سے دوری مجھے گوارا نہیں ،میں آپ کے ساتھ رہ کراللہ عَزَّوَجَلَّ کی
Flag Counter