یہ سن کر غیرت مند شوہر پکار اُٹھا :'' اس شخص کو روک دو ، میں قاضی صاحب کے سامنے اقرار کرتا ہوں کہ جودعویٰ میری زوجہ نے مجھ پر کیا ہے وہ مجھ پر لازم ہے، میں پانچ سو دینار ادا کرنے کو تیار ہوں ، خدارا !میری زوجہ کا چہرہ کسی غیر مرد پر ظاہر نہ کیا جائے۔'' چنانچہ، گواہ کو روک دیا گیا۔ جب عورت نے اپنے غیرت مند شوہر کا یہ جذبہ دیکھا تو کہا :'' سب گواہ ہو جاؤ! میں نے اپنا مہرمعاف کر دیا، میں دنیا و آخرت میں اس کا مطالبہ نہ کرو ں گی، یہ مہر میرے غیرت مند شوہر کو مُبَارَک ہو۔'' محفل میں موجو د تمام لوگ میاں بیوی کے اس فیصلے پرعَش عَش کر اُٹھے ۔قاضی صاحب نے فرمایا:'' ان دونوں کا یہ معاملہ بہترین اوصاف اور اعلیٰ اخلاق پر دلالت کرتا ہے ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس واقعہ میں ہمارے لئے بہترین سبق ہے۔کیسا غیرت مند تھا وہ شخص! کہ اپنے اوپر لازم پانچ سو (500) دینار کا اقرار تو کر لیا لیکن اس کی غیرت نے یہ گوارا نہ کیا کہ میری زوجہ کا چہر ہ کسی غیر مرد کے سامنے ظاہر ہو۔ یہ حیاء کا اعلیٰ درجہ ہے ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! دعوت اسلامی کے مدنی ماحول میں یہ ترغیب دلائی جاتی ہے کہ غیرمَحْرَم سے پردہ کیا جائے اور بے پردگی کی نحوست سے خود بھی بچا جائے اور اپنے گھر والوں کو بھی بچا یاجائے ۔اسی عنوان یعنی پردے کے بارے میں احکام سے متعلق امیرِاہلسنت حضرت علامہ مولیٰناابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دامت بر کاتہم العالیہ کی کتاب''پردے کے بارے میں سوال جواب '' دعوت اسلامی کے اِشاعتی ادارے'' مکتبۃالمدینہ'' سے حاصل فرمائیں خود بھی پڑھیں اور مسلمانوں کی خیرخواہی کی نیت سے تحفۃًپیش کریں ۔)