Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
125 - 412
    ایک روایت میں اس طر ح منقول ہے کہ کسی نے انتقال کے بعد حضرت سیِّدُنا منصور بن عمّار علیہما رحمۃ اللہ الغفار کو خواب میں دیکھ کر پوچھا :''مَا فَعَلَ اللہُ بِکَ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟'' کہا:'' میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ نے مجھ سے ان تین سو ساٹھ (360)اجتماعات کے متعلق پوچھا جن میں،میں نے اللہ عَزَّوَجَلََّ کی پاکی بیان کی تھی ، پھر ارشاد فرمایا:'' اے منصور! ہم نے تمہاری تمام خطائیں اور گناہ معاف کردیئے۔ کھڑے ہوجاؤ! جس طر ح زمین میں تم ہماری پاکی بیان کرتے تھے اسی طرح آسمان والوں کے سامنے ہماری پاکی بیان کرو۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)

؎ رحمت دا دریا الٰہی ہر دم وگدا تیرا 		جے اک قطرہ بخشیں مینوں کم بن جاوے میرا

    (میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حکایت سے معلوم ہوا کہ نیک اجتماعات میں شرکت کرنا کتنی سعادت کی بات ہے۔ نہیں معلوم کس لمحے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت بر سے اور مغفرت کا ذریعہ بن جائے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ! جگہ بہ جگہ دعوتِ اسلامی کے سنتوں بھرے اجتماعات ہوتے ہیں ۔ ہر جمعرات مغرب کی نماز کے بعد اپنے اپنے شہرو ں میں ہونے والے دعوت اسلامی کے سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت فرمائیں۔ اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ دین ودنیا کی ڈھیروں بھلائیاں ہاتھ آئیں گی ۔)
حکایت نمبر298:         حضرت معروف کرخی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی برکت
    حضرت سیِّدُنا ابوعباس مُؤَدِّبْ(مُ. ءَ. دِ ّ. بْ) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے، ''میرے ایک ہاشمی پڑوسی کے معاشی حالات ٹھیک نہ تھے انہوں نے اپنا ایک واقعہ کچھ اس طر ح سنایا: '' ہمارے ہاں بچے کی ولادت ہوئی توگھر میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جو اپنی زوجہ کو کھلاتا۔ اس دُکھیاری نے مجھ سے کہا : میرے سرتاج! آپ میری حالت وکیفیت سے خوب واقف ہیں، اس وقت مجھے غذا کی اشد ضرورت ہے تاکہ میری کمزوری دور ہو ، اب میں مزید صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ۔خدا را! کچھ کیجئے۔ اپنی زوجہ کی یہ حالت دیکھ کر میں بے تا ب ہوگیا اور عشاء کی نماز کے بعد ایک دُکان دار کے پاس گیا۔ میں غلہ وغیرہ اسی سے خریدتا تھا ، مجھ پر اس کا کچھ قرض بھی تھا۔ میں نے اسے اپنے گھر کی حالت بتائی اور کچھ سامانِ خورد ونوش (یعنی کھانے پینے کا سامان )طلب کیا او رکہا کہ میں جلد ہی اس کی قیمت ادا کردو ں گا۔

     لیکن اس نے صاف انکار کر دیا۔ میں ایک دوسرے دکاندار کے پاس گیا اور اپنی حالت سے آگا ہ کر کے کچھ چیزیں
Flag Counter