Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
123 - 412
منکشف کرنا چاہتے ہو جو چھپ کر اپنے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتے ہیں اور یہ سب کچھ تم ایک آدمی کے لئے کر رہے ہو ، شُعَیْب بن لَیْث مر گیا ہے اور کیا یہ تمام لوگ اپنے معبودِ برحق کی طرف لوٹ کرنہیں جائیں گے۔ ''

    یہ غیبی آواز سن کر میں نے رجسٹر بند کر دیا اور کسی کا نام نہ لکھا۔ صبح جب میں حضرت سیِّدُنا لَیْث بن سعد علیہ رحمۃ اللہ الاحد کے پاس گیا تو مجھے دیکھ کر ان کے چہرے پر خوشی کے آ ثار نمایاں ہو گئے ، انہوں نے بڑے شوق سے رجسٹرلیا اور ورق گردانی شروع کردی۔
''بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم''
کے علاوہ انہیں کوئی اور چیز نظر نہ آئی۔میں نے کہا :'' حضور ! آپ کو اس میں بِسْمِ اللہ شریف کے علاوہ کچھ نظر نہ آئے گا کیونکہ میں نے صرف
''بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم''
 ہی لکھی ہے ۔''یہ سن کر انہوں نے کہا: ''اے سعید! کیا وجہ ہے ؟'' تومیں نے سارا واقعہ کہہ سنایا: میری بات سنتے ہی انہوں نے ایک زوردار چیخ ماری اور تڑپنے لگے ، یہ دیکھ کر لوگو ں کا ہجوم ہوگیا ، انہوں نے مجھ سے پوچھا:'' اے ابو حَارِث علیہ رحمۃ اللہ الوارث! انہیں کیا ہوا ، خیر تو ہے ؟ ' ' میں نے کہا:'' ہاں! سب ٹھیک ہے ۔'' پھر آپ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا :'' اے سعید !بہت اچھا ہوا کہ تجھے مُتَنَبِّہ(یعنی خبردار) کردیا گیا اور ہم اس معاملے میں نہ پڑے۔ پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ روتے رہے اور اس طر ح کہتے رہے: '' لَیْث مرگیا تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کی طرف پلٹ کر جائے گا اورہم سب بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کی طرف لوٹ کر جائیں گے ۔'' حضرتِ سیِّدُنا سعید اَدَم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کے بارے میں مشہورہے کہ یہ اَبدال تھے۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
حکایت نمبر296:                غیرت مند شوہر
    حضرت سیِّدُنا ابو عبداللہ محمد بن احمد بن موسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ''ایک مرتبہ میں ''رَے'' (ایران کے دارالخلافہ، موجودہ نام تہران) کے قاضی موسیٰ بن اِسحاق علیہ رحمۃ اللہ الرزاق کی محفل میں تھا ۔ قاضی صاحب لوگو ں کے مسائل حل کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک عورت ان کے پاس لائی گئی، اس کے سرپرستوں کا دعویٰ تھا کہ اس عورت کے شوہر نے اس کا پانچ سو دینار مہرادا نہیں کیا۔ جب اس کے شوہرسے پوچھا گیاتو اس نے انکارکردیااورکہا: ''مجھ پرمہرکادعویٰ بے بنیادہے۔''شوہر کے انکار پر قاضی صاحب نے عورت سے گواہ طلب کئے ، گواہ حاضر کئے گئے تو ان میں سے ایک نے کہا :''میں اس عورت کو دیکھنا چاہتا ہوں تا کہ اسے پہچان کر گواہی دوں۔'' چنانچہ، وہ عورت کی طرف بڑھا اور کہا:'' تم اپنا نقاب ہٹاؤ تاکہ تمہاری پہچان ہوسکے۔'' یہ دیکھ کر اس کے شوہر نے کہا: '' یہ شخص میری زوجہ کے پاس کیوں آیا ہے؟'' وکیل نے کہا:'' یہ گواہ تمہاری زوجہ کا چہر ہ دیکھنا چاہتا ہے تا کہ پہچان ہو جائے۔''
Flag Counter