Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
122 - 412
نَخْشَبِی علیہ رحمۃ اللہ القوی ہیں۔ '' جب لوگو ں نے یہ سنا تو مجھے چھوڑ دیا اور معافی مانگنے لگے۔پھر ایک شخص مجھے اپنے گھر لے گیا اور میرے سامنے گرم گرم روٹیاں اور انڈے لاکر رکھ دیئے ۔ یہ دیکھ کر میں نے اپنے نفس سے کہا :

    '' اے نفس! ستر(70) کوڑے کھانے کے بعد تیری خواہش پوری ہوگئی ہے،لے !اب انڈے اور روٹی کھالے ۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)

    ( میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! ہمارے اَسلاف کس طر ح نفسانی خواہشات کی مخالفت کرتے ، حرام تو دَر کنار مشتبہ بلکہ مباح اشیاء بھی ترک کر کے نفس کی مخالفت کرتے ہوئے پیٹ کا قفل مدینہ لگایا کرتے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ! دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول میں بھی یہ تر غیب دلائی جاتی ہے کہ حرام و مشتبہ چیزوں سے بچا جائے اور جائز ومباح کھانے بھی بھوک سے کم کھائے جائیں تا کہ بھوک کی بدولت عبادت میں دل لگ جائے اور برے کاموں کی طرف ذہن نہ جائے۔ جب پیٹ بھر ا ہوتا ہے توعبادت میں سُستی ہوجاتی ہے۔ اس کے بر عکس بھوک کی حالت میں سوز وگداز مزید بڑھ جاتا ہے۔آپ سے گذارش ہے مکتبۃ المدینہ سے شائع کردہ کتاب ''آداب ِطعام اور پیٹ کا قفل مدینہ''کاضرور مطالعہ فرمائیں اس کی برکت سے ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کوکھانے کے آداب اور بھوک سے کم کھانے سے کیافوائد حاصل ہوتے ہیں سیکھنے کو ملیں گے ۔)
حکایت نمبر295:                 غیبی آواز
    حضرت سیِّدُناسعید اَدَم علیہ رحمۃ اللہ الا کرم سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ میرا گز ر حضرت سیِّدُنا لَیْث بن سعد علیہ رحمۃ اللہ الاحد کے قریب سے ہوا تو انہوں نے مجھے اپنے پاس بلا کرفرمایا : ''اے سعید علیہ رحمۃ اللہ المجید! یہ رجسٹر لو اور اس میں ان لوگوں کے نام لکھ کر لاؤ جو ہر وقت مسجدمیں عبادتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں مشغول رہتے ہیں۔ عبادت وریاضت کی وجہ سے انہیں کارو بار وتجارت کا وقت نہیں ملتا اور نہ ہی ان کے پاس کوئی زرعی زمین ہے جس سے غلہ حاصل کر سکیں ۔ایسے تمام عبادت گزاروں کے نام لکھو (تاکہ ان کا کچھ وظیفہ وغیرہ مقرر کیا جاسکے) میں نے یہ سنا تو ان کا شکر یہ ادا کیا ، اس فعلِ حَسَن پر انہیں دعائیں دیں اور رجسٹر لے کر گھر چلا آیا۔ عشاء کی نماز کے بعد میں نے چراغ کی روشنی میں رجسٹرکھولا اور ایسے لوگو ں کے نام یاد کرنے لگا جن کے بارے میں مجھے بتایا گیا تھا۔ ایک ایک کر کے ان عبادت گزاروں کے نام میرے ذہن میں آنا شرو ع ہوگئے، میں نے (رجسٹر پر)
'' بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم''
 لکھی ، ابھی میں پہلا نام لکھنے ہی لگاتھا کہ ایک غیبی آواز سنائی دی: ''اے سعید ! خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! تم ایسے لوگوں کا راز
Flag Counter