چند درہم رشوت دے کر اس بات پر راضی کر لیا کہ کھجوروں کا وہ تھال مجھ تک پہنچا دے۔ اس نے اس بات کی پرواہ نہ کی کہ میں یہ کھجوریں واپس کر دوں گا۔ اس نے کھجوروں کا تھال مجھے بھجوا دیا ،میں نے ان میں سے ایک کھجور بھی نہ لی اور خادم سے کہا کہ جہاں سے لائے ہو وہیں واپس لے جاؤ ۔میں ہر گز قبول نہ کروں گا ۔
چنانچہ، وہ شخص اپنی کھجوریں لے کر واپس چلا گیا ۔دوسرے دن وہ اپنے مخالف فریق کے ساتھ میرے پاس آیا۔ آج ان کا فیصلہ ہونا تھا جب وہ دونوں میرے سامنے آئے ، میری نظر اور میرے دل میں وہ دونوں برابر کی حیثیت سے نہ آئے ۔مجھے ایسا لگا کہ میری توجہ اس شخص کی طرف زیادہ ہور ہی ہے جو کھجوریں لے کر آیا تھا۔ا ے خلیفہ! مجھے اپنی یہ کیفیت ہر گز ہر گز قبول نہیں۔ میں نے وہ کھجوریں قبول نہ کیں تب میری یہ حالت ہے۔اگر خدا نخواستہ قبول کر لیتا تو میرا کیا بنتا؟ میں نہیں چاہتا کہ کسی وجہ سے میں دینی معاملات میں رکاوٹ وفسادکاباعث بنوں اورہلاکت میرامقدَّربن جائے۔مجھے یہ بات باکل پسند نہیں کہ میری وجہ سے لوگوں میں فساد وبدامنی پھیلے۔ خدارا! مجھے معاف فرمائیں اور میری جگہ کسی اور کو قاضی مقرر کر دیں ،آپ کا مجھ پر احسان ہو گا۔'' خلیفہ نے جب ان کی اخلاص بھری باتیں سنیں تو اِستِعْفٰی قبول کر کے ان کی جگہ کسی اور کو قاضی بنا دیا۔اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے اس طرح واپس ہوئے جیسے بہت بڑا بوجھ آپ کے سر سے اُتر گیا ہو ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
؎ اللہ اس سے پہلے ایمان پہ موت دے دے نقصاں میرے سبب سے ہو سنتِ نبی کاصلي اللہ عليہ وسلم