Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
121 - 412
چند درہم رشوت دے کر اس بات پر راضی کر لیا کہ کھجوروں کا وہ تھال مجھ تک پہنچا دے۔ اس نے اس بات کی پرواہ نہ کی کہ میں یہ کھجوریں واپس کر دوں گا۔ اس نے کھجوروں کا تھال مجھے بھجوا دیا ،میں نے ان میں سے ایک کھجور بھی نہ لی اور خادم سے کہا کہ جہاں سے لائے ہو وہیں واپس لے جاؤ ۔میں ہر گز قبول نہ کروں گا ۔

    چنانچہ، وہ شخص اپنی کھجوریں لے کر واپس چلا گیا ۔دوسرے دن وہ اپنے مخالف فریق کے ساتھ میرے پاس آیا۔ آج ان کا فیصلہ ہونا تھا جب وہ دونوں میرے سامنے آئے ، میری نظر اور میرے دل میں وہ دونوں برابر کی حیثیت سے نہ آئے ۔مجھے ایسا لگا کہ میری توجہ اس شخص کی طرف زیادہ ہور ہی ہے جو کھجوریں لے کر آیا تھا۔ا ے خلیفہ! مجھے اپنی یہ کیفیت ہر گز ہر گز قبول نہیں۔ میں نے وہ کھجوریں قبول نہ کیں تب میری یہ حالت ہے۔اگر خدا نخواستہ قبول کر لیتا تو میرا کیا بنتا؟ میں نہیں چاہتا کہ کسی وجہ سے میں دینی معاملات میں رکاوٹ وفسادکاباعث بنوں اورہلاکت میرامقدَّربن جائے۔مجھے یہ بات باکل پسند نہیں کہ میری وجہ سے لوگوں میں فساد وبدامنی پھیلے۔ خدارا! مجھے معاف فرمائیں اور میری جگہ کسی اور کو قاضی مقرر کر دیں ،آپ کا مجھ پر احسان ہو گا۔'' خلیفہ نے جب ان کی اخلاص بھری باتیں سنیں تو اِستِعْفٰی قبول کر کے ان کی جگہ کسی اور کو قاضی بنا دیا۔اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے اس طرح واپس ہوئے جیسے بہت بڑا بوجھ آپ کے سر سے اُتر گیا ہو ۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)

؎ اللہ اس سے پہلے ایمان پہ موت دے دے    نقصاں میرے سبب سے ہو سنتِ نبی کاصلي اللہ عليہ وسلم
حکایت نمبر294:         انڈے اورروٹی کھانے کی خوا ہش
    حضرت سیِّدُنا یوسف بن حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے، میں نے حضرت سیِّدُنا ابو تُراب نَخْشَبِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے کبھی نفسانی خواہشات کو اپنے اوپر غالب نہ ہونے دیا اور ہمیشہ اپنی خواہشات کی مخالفت کرتا۔ ایک مرتبہ دورانِ سفر میرے نفس نے بڑی شدت سے روٹی اور انڈا کھانے کا مطالبہ کیا، باوجود کوشش کے میں اس خواہش پر قابونہ پاسکا ۔نفس بار با ر انڈا اور روٹی کھانے کی خواہش کر رہا تھا۔ چنانچہ، میں ایک قریبی بستی کی طر ف گیا جیسے ہی میں بستی میں داخل ہوا ایک شخص مجھ پر جھپٹا اور شور مچانے لگا: '' پکڑو! پکڑو! یہ بھی چوروں کاساتھی ہے'' ۔ لوگ مجھ پر ٹوٹ پڑے اور کوڑے مارنے لگے۔ جب ستر کوڑے مار چکے تو ایک جاننے والے شخص نے مجھے پہچان لیا اور کہا:'' اے لوگو ! یہ تم کسے مار رہے ہو؟ ارے! یہ تو زمانے کے مشہور ولی حضرت سیِّدُنا ابو تراب
Flag Counter