سے زیادہ مہارت رکھتے ہیں۔ علمِ حدیث کے سب سے بڑے عالِم حضرت سیِّدُناشَاذَکُوْنِی علیہ رحمۃ اللہ الولی ہیں۔ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے، قرآن کا بڑا عالم مجھے سمجھا جاتا ہے۔'' ابنِ کَلْبِی کاتب تمام باتیں لکھ رہاتھا ۔ عامل نے کاتب(یعنی لکھنے والے) سے کہا: ''کل ان تمام کو میرے ہاں آنے کی دعوت دو ، میں ان علماء کرام رحمہم اللہ السلام کی زیارت کرنا چاہتا ہوں ۔''
دوسرے دن جب تمام حضرات تشریف لائے تو عامل نے کہا: '' آپ میں سے مَازِنِی کون ہے؟ حضرتِ سیِّدُنا ابوعثمان علیہ رحمۃ اللہ المنّان نے کہا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے، میں یہاں ہوں۔'' کہا:'' یہ بتائیے کہ کَفَّارۂ ظِہار(۱) میں اگر کانا غلام آزاد کر دیا جائے تو کیا یہ کفایت کریگا ؟ '' حضرتِ سیِّدُنا مَازِنِی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے فرمایا : ''اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے! میں فقہ میں مہارت نہیں رکھتا بلکہ میں تو عربی لغت کا ماہر ہوں۔'' عامل نے حضرتِ سیِّدُنازِیَادِی علیہ رحمۃ اللہ الہادی سے پوچھا: '' اگر کوئی عورت اپنے شوہر سے مہر کے تہائی حصے کے عوض خُلَع لے تو اس مسئلہ میں آپ کا کیافیصلہ ہے ؟'' حضرتِ سیِّدُنا زِیَادِی علیہ رحمۃ اللہ الہادی نے فرمایا:'' یہ مسئلہ میرے علم سے متعلق نہیں، اس کا صحیح حل تو ہِلَال رَائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہی بتا ئیں گے۔'' عامل نے حضرتِ سیِّدُناہِلَال رَائی رحمۃ اللہ علیہ سے کہا :'' اے ہلا ل! یہ بتائیے کہ ابن عَوف نے حضرتِ سیِّدُناحسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کتنی روایات لی ہیں۔'' حضرتِ سیِّدُنا ہِلَال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :'' اس کا صحیح جواب تو حضرتِ سیِّدُنا شَاذَکُوْنِی علیہ رحمۃ اللہ الولی ہی دے سکتے ہیں کیونکہ انہیں اس علم میں مہارت حاصل ہے ۔''پھر حضرتِ سیِّدُنا شَاذَکُوْنِی علیہ رحمۃ اللہ الولی سے کہا: ''اے شَاذَکُوْنِی علیہ رحمۃ اللہ الولی! یہ کس کی قرا ء ت ہے :