Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
107 - 412
    حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں:میں نے کہا :'' اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بندی ! تجھے خوف نہیں آتا کہ ایسے بابر کت مکان میں اس طر ح کا کلام کر رہی ہے؟'' وہ میری طرف متوجہ ہوئی اوراس مفہوم کے چند اشعارپڑھے:

    ''اگر اس سے ملاقات کا معاملہ نہ ہوتا تو تُو مجھے پُرسکون نیند سے دور نہ دیکھتا ،جب وہ مل گیا تو اس نے مجھے وطن سے بہت دورکر دیا جیسا کہ تو دیکھ رہا ہے، میں اسے پانے سے ڈرتی ہوں لیکن اس کی محبت مجھے شوق دلاتی ہے۔'' 

     پھرپوچھا:''اے جنید!تُو کعبہ کا طواف کر رہا ہے یاپھر ربِّ کعبہ کا ؟'' میں نے کہا :'' خانۂ کعبہ کا طواف کر رہا ہوں ۔'' کنیز نے اپنا سر آسمان کی طرف اُٹھایا اور کہا : ''اے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! تیرے لئے پاکی ہے ، تو پاک ہے تو نے جیسا چاہا اپنی مخلوق کو پیدا فرمایا، تیری حکمتیں بہت عظیم ہیں ، یہ لوگ تو پتھروں جیسے ہیں جن کی نظر صرف مخلوق تک محدود ہے۔پھر کچھ اشعار پڑھے، جن کا مفہوم یہ ہے:

    ''لوگ قرب الٰہی عَزَّوَجَلَّ پانے کے لئے طواف کرتے ہیں اور حال یہ ہے کہ ان کے دل چٹان سے بھی زیادہ سخت ہوتے ہیں، وہ چَٹْیَل میدانوں میں راستہ بھٹک کر اپنی پہچان بھی کھو بیٹھے اور یہ گمان کر لیا کہ ہم تو بہت مقرب ہو گئے ہیں، اگر وہ محبت میں خالص ہو جاتے تو ان کی اپنی صفا ت غائب ہو جاتیں اور ذِکر الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی بدولت حق سے محبت کی صفات ان میں ظاہر ہو جاتیں۔'' 

    حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں: ''اس کا عارفانہ کلام سن کرمجھ پر غشی طاری ہوگئی، جب افاقہ ہوا تو میں نے اسے بہت تلاشا مگر کہیں نہ پایا۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)
حکایت نمبر284:             امام کسائی کی علمی مہارت
     حضرتِ سیِّدُنا ابو حاتم سَہْل بن محمد سِجِسْتَانِی قُدِّ سَ سِرُّہُ الرَّبَّانِی فرماتے ہیں:'' ایک مرتبہ کو فہ کی ایک ایسی شخصیت کو ہم پر عامل(یعنی گورنر) مقررکیا گیا کہ بصرہ کے سرکاری عہدے داروں میں اس سے زیادہ ذہین اور قابل شخص میں نے کبھی نہ دیکھا تھا۔ میں ملاقات کے لئے گیا تو اس نے مجھ سے پوچھا : ''اےسِجِسْتَانِی قُدِّ سَ سِرُّہُ الرَّبَّانِی! بصرہ کے مایہ ناز علماء کرام کون ہیں ؟ میں نے کہا : ''حضرتِ سیِّدُنازِیَادِی علیہ رحمۃ اللہ الہادی حاضر دِماغی، معاملہ فہمی اور َتکَلُّم میں سب پر فوقیت رکھتے ہیں۔ علمِ نَحْو میں سب سے زیادہ مہارت حضرت سیِّدُنا ابوعثمان مَازِنِی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کو حاصل ہے۔ حضرت سیِّدُنا ہِلَال رَائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فقہ میں سب
Flag Counter