یہ سن کر وہ عامل کچھ اس طر ح گویا ہوا، اس سے زیادہ ناپسند یدہ شخص کو ن ہوگا کہ پچاس سال تک حصولِ علم میں مشغول رہا ، پھربھی صرف ایک فن میں مہارت حاصل کی اگر اس فن کے علاوہ کسی اور علم کے متعلق اس سے سوال کیا جائے تو وہ اس کا جواب نہ دے سکے۔ ایسا شخص لائق افسوس ہے ، ہاں! ہمارے کوفہ کے عالم '' امام کسائی '' ایسے ماہر عالم ہیں کہ ان سے کسی بھی علم کے متعلق کوئی بھی سوال کیا جاتا تو وہ اس کا تسلِّی بخش جواب دیتے ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! علم دین اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بہت بڑی نعمت ہے، پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ علیم وخبیر ہے جسے چا ہے علم دین کی دولت سے بیش بہا خزانہ عطا فرمائے ۔ عرصۂ دراز تک انسان کسی قابل وماہراستاذکے سامنے زَانُوئے تَلَمُّذ ( تَ.لَم ْ. مُذ) طے کرتا (یعنی شاگردی اختیار کرتا)ہے تب جاکر اسے کسی فن میں مہارت حاصل ہوتی ہے، جب تک کسی ماہر تیرا ک کی خدمت میں رہ کر مسلسل تیرا کی کی مشق نہ کی جائے تب تک سمندر کی تہہ میں چھپے ہوئے جو اہر(یعنی موتیوں) تک رسائی نہیں ہوسکتی۔ کسی بھی فن میں مہارتِ تامہ کے لئے اَنتھک محنت بہت ضروری ہے۔ اور ہر فن میں مہارت حاصل ہوجانا عطیۂ خداوندی ہے۔
ہر دور میں ایسے عظیم لوگ پیدا ہوئے جن کی رہنمائی میں کتنے بھٹکے ہوؤں کو منزلِ مقصود مل گئی۔ کتنے تشنگانِ علم حصولِ علم کی طرف متوجہ ہوئے۔ انہیں رہبروں میں ایک عظیم رہبر اعلیٰ حضرت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت شاہ امام احمد رضاؔ خان علیہ رحمۃ اللہ المنَّان بھی ہیں کہ جن کے علم کا ڈنکا چار دانگ عالم میں بج رہا ہے۔ آپ ایسے عظیم بزرگ تھے کہ جس علم کی طرف بڑھتے اس کے حصول میں کامیاب ہوجاتے آپ کو بیسیوں علوم میں مہارتِ تامہ حاصل تھی ۔ تاریخ گواہ ہے کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جہاں فقہ کی دنیا کے شہنشاہ ہیں، وہیں علمِ قرآن ، علم ِحدیث ، علمِ ہندسہ ، علمِ فلا سفہ اور مُرَوَّجہ تمام علوم وفنون میں مہارت تامہ حاصل تھی ، آپ اکیلے ہی اپنی ذات میں ایک انجمن تھے ، جس نے بھی آپ کی سیرت کا مطالعہ کیا وہ آپ کی خداداد علمی صلاحیت کوتسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا۔)