| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
بن کر میری خدمت کرے اور میں اس کی طرف نظر نہ رکھو ں بلکہ یہ سمجھوں کہ میرا پروردگار عَزَّوَجَلَّ مجھے دشمن کے ذریعے رزق عطا فرما رہا ہے ۔ اور واقعی تمام جہانوں کو وہی خالقِ کائنات رزق عطا فرماتا ہے جو میرا معبودہے۔'' متوکل نوجوان کی یہ بات سن کر لوگ خاموش ہوگئے اور سمجھ گئے کہ اس کو واقعی غیب سے رزق دیا جاتا ہے۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ ایک مُسَلَّمَہ حقیقت ہے کہ جو شخص اپنے پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ کی عبادت کے لئے اپنے آپ کو فارغ کرلیتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے دنیوی پریشانیوں سے نجات عطا فرمادیتا ہے۔ جو اُس خالقِ لَمْ یَزَلْ عَزَّوَجَلَّ کے کاموں میں لگ جاتاہے تو وہ مُسَبِّبُ الاسباب اسے ایسے ایسے اسباب مہیا فرماتا ہے کہ جن کے بارے میں وہم وگمان بھی نہیں ہوتا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی ایسا یقینِ کامل عطا فرمائے کہ ہماری نظر اسباب پر نہ ہوبلکہ خالقِ اسباب کی طرف ہو۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں توکل کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)حکایت نمبر283: ایک کنیز کا عارِفانہ کلام
حضرتِ سیِّدُنا جَعْفَرخُلْدی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے منقول ہے کہ میں نے حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی کو یہ فرماتے ہوئے سنا :'' ایک مرتبہ میں اکیلا ہی سفرِ حج پر روانہ ہوا ، منزلوں پر منزلیں طے کر تا حرم شریف کی مشکبار فضاؤں میں جا پہنچا۔ جب شام ہوئی اور رات نے اپنے پر پھیلا دیئے تو دن بھر کے تھکے ماندے لوگ بسترِ آرام پر خواب خرگوش کے مزے لینے لگے ، محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے سر شار دل والے عبادت گزاروں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں آہ وزاری کرنا شروع کردی ۔ میں بھی اپنے پاک پرودرگارعَزَّوَجَلَّ کے پیارے گھر'' خانۂ کعبہ'' کاطواف کرنے لگا ۔ ایک کنیز بھی طواف کر رہی تھی اوراس کی زبان پر چند عربی اشعار جاری تھے، جن کا مفہوم کچھ اس طرح ہے:
''محبت نے پوشیدہ رہنے سے انکار کیا اور کتنی ہی مرتبہ میں نے اسے چھپایا مگر وہ ظاہر ہوگئی پھر اس نے میرے ہی پاس ڈیرہ ڈال لیا اور مجھے اپنا مسکن بنا لیا۔ جب میرا شوق بڑھتا ہے تو میرا دل اسے یاد کرنے کی خو ب خواہش کرتا ہے اور جب میں اپنے حبیب کا قرب چاہتی ہوں تو وہ میرے قریب ہو جاتا ہے۔ اور وہ سامنے آتا ہے تو میں فنا ہو جاتی ہوں پھر اس کی وجہ سے اسی کے لئے زندہ ہو جاتی ہو ں اور وہ میری مدد کرتا ہے یہاں تک کہ میں خوب لطف محسوس کرتی ہوں اور کیف وسرور سے جھومنے لگتی ہوں ۔''