Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
105 - 412
 افطاری میں صرف نمک کے ساتھ جَو کی روٹی کھاتے ہو۔ میں چاہتاہوں کہ تمہیں کچھ ہدیہ پیش کروں۔'' یہ کہہ کر میں نے دیناروں کی تھیلی اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا: ''یہ ایک ہزار دینار ہیں انہیں قبول فرماکر مجھ پر احسان فرمائیں ۔'' یہ سن کر اس درویش نے میری طرف بڑی غضب ناک نظروں سے دیکھا اورکہا:'' اپنے دینار واپس لے جاؤ! بے شک یہ تواس کی جزاء ہے جس نے اپنا راز لوگوں پر ظاہر کردیاہو، جاؤ! ہمیں تمہارا یہ مال نہیں چاہے۔'' میں نے بہت اصرار کیالیکن اس نے ایک دینار بھی قبول نہ کیا۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)

    (سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ !ہمارے بزرگانِ دین میں کیسی خودداری ہواکرتی تھی کہ نمک کے ساتھ جَو کی روٹی کھا نا تو منظور کر لیتے لیکن کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کرتے۔ اگر کوئی بن مانگے دیتاتب بھی اس سے گریز کرتے ، ذرا سابھی خیال آجاتا کہ یہ ہدیہ ہمیں اس لئے دیا جارہا ہے کہ لوگوں پر ہماری عبادت کا حال ظاہر ہوگیا ہے اورہماری عبادت وریاضت سے متاثر ہوکر ہدیہ دیا جا رہا ہے تو ہرگز قبول نہ کرتے ۔ بس اپنے پاس جورزقِ حلال ہوتا اسی پراکتفاء کر کے صابر وشاکر رہتے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے صدقے ہمیں بھی قَناعت کی دولت سے مالا مال فرمائے اورہر حال میں اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)
حکایت نمبر282:             شیطان میرا خادم ہے
    حضرتِ سیِّدُنا ایوب حَمَّال علیہ رحمۃ اللہ الغفّار سے منقول ہے کہ ہمارے علاقے میں ایک مُتَوَکِّل( مُ .تَ. وَکْ. کِ. لْ) نوجوان رہتا تھا۔وہ عبادت وریاضت اور تَوَکُّل ( تَ. وَ کْ.کُ. لْ ) کے معاملے میں بہت مشہور تھا ۔ لوگو ں سے کوئی چیز نہ لیتا۔ جب بھی کھانے کی حاجت ہوتی اپنے سامنے سِکّوں سے بھری ایک تھیلی پاتا۔ اسی طر ح وہ اپنے شب وروز عبادتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں گزارتا اور اسے غیب سے رزق دیا جاتا۔ ایک دفعہ لوگو ں نے اس سے کہا :'' اے نوجوان! تو سِکّوں کی وہ تھیلی لینے سے ڈر! ہو سکتا ہے شیطان تجھے دھوکا دے رہا ہو او روہ تھیلی اسی کی طرف سے ہو۔'' 

     نوجوان نے کہا:'' میری نظر تو اپنے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کی طرف ہوتی ہے، میں اس کے علاوہ کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتا ، جب میرا مولیٰ عَزَّوَجَلَّ مجھے رزق عطا فرماتا ہے تو میں قبول کرلیتا ہوں ۔ بالفر ض اگر وہ سکوں کی تھیلی میرے دشمن شیطان کی طرف سے ہو تو اس میں میرا کیا نقصان بلکہ مجھے فائدہ ہی ہے کہ میرا دشمن میرے لئے مُسَخَّر کردیاگیا ہے ۔ اگر واقعی ایسا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اُسے میرا خادم بنائے رکھے۔ اس سے زیادہ اچھی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ میرا سب سے بڑا دشمن خادم
Flag Counter