افطاری میں صرف نمک کے ساتھ جَو کی روٹی کھاتے ہو۔ میں چاہتاہوں کہ تمہیں کچھ ہدیہ پیش کروں۔'' یہ کہہ کر میں نے دیناروں کی تھیلی اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا: ''یہ ایک ہزار دینار ہیں انہیں قبول فرماکر مجھ پر احسان فرمائیں ۔'' یہ سن کر اس درویش نے میری طرف بڑی غضب ناک نظروں سے دیکھا اورکہا:'' اپنے دینار واپس لے جاؤ! بے شک یہ تواس کی جزاء ہے جس نے اپنا راز لوگوں پر ظاہر کردیاہو، جاؤ! ہمیں تمہارا یہ مال نہیں چاہے۔'' میں نے بہت اصرار کیالیکن اس نے ایک دینار بھی قبول نہ کیا۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)
(سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ !ہمارے بزرگانِ دین میں کیسی خودداری ہواکرتی تھی کہ نمک کے ساتھ جَو کی روٹی کھا نا تو منظور کر لیتے لیکن کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کرتے۔ اگر کوئی بن مانگے دیتاتب بھی اس سے گریز کرتے ، ذرا سابھی خیال آجاتا کہ یہ ہدیہ ہمیں اس لئے دیا جارہا ہے کہ لوگوں پر ہماری عبادت کا حال ظاہر ہوگیا ہے اورہماری عبادت وریاضت سے متاثر ہوکر ہدیہ دیا جا رہا ہے تو ہرگز قبول نہ کرتے ۔ بس اپنے پاس جورزقِ حلال ہوتا اسی پراکتفاء کر کے صابر وشاکر رہتے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے صدقے ہمیں بھی قَناعت کی دولت سے مالا مال فرمائے اورہر حال میں اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)