Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
104 - 412
دیوار سے ٹیک لگائے قبلہ رُخ بیٹھے تھے۔ میں نے سلام کیا اوررقعہ نکا ل کر دکھایا۔ فرمایا: '' یہ کیا ہے ؟''میں نے کہا: '' ابو جَعْفَر رَازِی علیہ رحمۃ اللہ الہادی کا خط۔'' فرمایا:'' سناؤ! اس میں کیا لکھا ہے ؟''میں نے پڑھ کر سنایا تو فرمایا:'' اس کی دوسری جانب جواب لکھو ۔'' میں نے دوسری جانب'' بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم'' لکھی اورعرض کی: حضور!کیالکھوں ؟''فرمایا:'' پہلے یہ آیت لکھو:
لُعِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡۢ بَنِیۡۤ اِسْرَآءِیۡلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ
ترجمۂ کنزالایمان:لعنت کئے گئے وہ جنہوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں داؤد کی زبان پر۔(پ6،المائدۃ:78)

    پھر لکھو: ''ہمیں ہمارا مالِ تجارت واپس کردو۔ ہمیں اب اس کے نفع کی کوئی حاجت نہیں ۔''

    پھر مجھ سے فرمایا:''جاؤ، یہ خط انہیں دے آؤ۔'' میں خط لے کران کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ بہت سے لوگ جمع ہیں ۔ سب نے خط پڑھالیکن اس کا مفہوم کوئی بھی نہ سمجھ سکا۔بالآخر یہ طے ہواکہ دونوں خط حضرت سیِّدُنا ابن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس لے چلتے ہیں تاکہ ان کی رائے معلوم ہوسکے ۔لیکن انہیں بتایا نہ جائے کہ یہ خط کس کا ہے ۔ جب ان کے پاس خط پہنچا تو دیکھتے ہی فرمایا: '' جس نے پہلے خط لکھا وہ ایسا شخص ہے جس کے قول وفعل میں تضاد ہے اور جواب دینے والاایسا شخص ہے جو اپنے عمل کے ذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کا طالب ہے ۔'' 

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)
حکایت نمبر281:             قناعت پسند صوفی
    حضرتِ سیِّدُنا احمد بن محمدبَزَّاز علیہ رحمۃ اللہ الغفّار فرماتے ہیں:''ایک مرتبہ عاشورہ کی رات میں ایک مسافر خانے میں داخل ہوا تو وہاں ایک درویش جَو کی روٹی نمک کے ساتھ کھا رہا تھا۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر میں تڑپ اٹھا۔ میرے پاس اس وقت ایک ہزار دینار تھے جو میں نے عبادت گزاروں کو نذرانہ دینے کی غرض سے جمع کر رکھے تھے ۔ میں نے لوگوں سے ا س درویش کے متعلق پوچھا تو پتا چلاکہ وہ علم تَصَوُّف کا بہت بڑا عالم اور یہاں کے تمام زاہدوں پر فوقیت رکھتا ہے۔ میں نے سوچا کہ یہ تمام دینار اسے دے دینے چاہیں کیونکہ اس سے بہتر کوئی نہیں جس پر مال خرچ کیا جائے ۔

    چنانچہ، صبح ہوتے ہی میں چندرفقاء کے ساتھ اس درویش کے پاس گیا۔ وہ بڑی خندہ پیشانی سے ملا، میں بھی خوش رُوئی سے پیش آیا۔ میں نے کہا:'' کل میں نے آپ کو نمک کے ساتھ جَو کی روٹی کھاتے دیکھا۔ میرا خیال ہے کہ تم دن کو روزہ رکھتے ہو اور
Flag Counter