خلیفۂ وقت سے حق داروں کاحق لینے کے متعلق معلوم ہو اتو انہوں نے قاضی صاحب کو خوب داد دی اور پورے شہر میں قاضی صاحب کی جراء َت مندی اور خلیفہ مُعْتَضِد باللہ کے عدل وانصاف کا شُہْرَہ ہوگیا ۔اور لوگ قاضی ابو حَازِم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کے لئے بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں دستِ دُعا دراز کرتے ہوئے نظر آنے لگے ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)
( سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! کیسے جُرأت مند وحق گوہوا کرتے تھے ہمارے اسلاف۔انہیں حق گوئی اور انصاف پسندی سے کوئی نہ روک سکتا تھا ۔ بڑی سے بڑی طاقت بھی انہیں اَمْرٌبِالْمَعْرُوْف اور نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر سے نہ روک سکتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام کے ایسے سَپوت بھی اس مادَرِ گیتی پر جلوہ افروز ہوئے جو بظاہر عام سے عہدے پرفائز تھے لیکن بادشاۂ وقت سے بھی حق کے معاملہ میں نہ گھبراتے، کسی بھی رعایت کے بغیر ان کے بارے میں بھی وہی فیصلہ کرتے جو ایک عام غریب کے ساتھ کیا جاتا۔پھر ان لوگو ں کی بے لوث خدمت اور بے غرض کوششیں رنگ بھی لائیں۔ ایسے بڑے بڑے اُمَراء کہ جن کے ایک اشارے پر گردنیں اڑادی جاتیں، جن کے غیض و غضب کے سامنے بڑے بڑے دلیر لرزتے تھے، لیکن ان مردان ِحق کے سامنے ان کا رعب ودبدبہ دَب جاتا اور حق بات پر انہیں صلح کرنا ہی پڑتی ،حق دار کو ان کا حق دینا ہی پڑتا، بلکہ یہ امراء وخلفاء ان مردانِ حق سے خائف رہتے، بلاتَاَمُّل ان کے فیصلوں پر سرِ تسلیم خم کر دیتے۔ )