Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
101 - 412
خلیفۂ وقت سے حق داروں کاحق لینے کے متعلق معلوم ہو اتو انہوں نے قاضی صاحب کو خوب داد دی اور پورے شہر میں قاضی صاحب کی جراء َت مندی اور خلیفہ مُعْتَضِد باللہ کے عدل وانصاف کا شُہْرَہ ہوگیا ۔اور لوگ قاضی ابو حَازِم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کے لئے بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں دستِ دُعا دراز کرتے ہوئے نظر آنے لگے ۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)

    ( سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! کیسے جُرأت مند وحق گوہوا کرتے تھے ہمارے اسلاف۔انہیں حق گوئی اور انصاف پسندی سے کوئی نہ روک سکتا تھا ۔ بڑی سے بڑی طاقت بھی انہیں اَمْرٌبِالْمَعْرُوْف اور نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر سے نہ روک سکتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام کے ایسے سَپوت بھی اس مادَرِ گیتی پر جلوہ افروز ہوئے جو بظاہر عام سے عہدے پرفائز تھے لیکن بادشاۂ وقت سے بھی حق کے معاملہ میں نہ گھبراتے، کسی بھی رعایت کے بغیر ان کے بارے میں بھی وہی فیصلہ کرتے جو ایک عام غریب کے ساتھ کیا جاتا۔پھر ان لوگو ں کی بے لوث خدمت اور بے غرض کوششیں رنگ بھی لائیں۔ ایسے بڑے بڑے اُمَراء کہ جن کے ایک اشارے پر گردنیں اڑادی جاتیں، جن کے غیض و غضب کے سامنے بڑے بڑے دلیر لرزتے تھے، لیکن ان مردان ِحق کے سامنے ان کا رعب ودبدبہ دَب جاتا اور حق بات پر انہیں صلح کرنا ہی پڑتی ،حق دار کو ان کا حق دینا ہی پڑتا، بلکہ یہ امراء وخلفاء ان مردانِ حق سے خائف رہتے، بلاتَاَمُّل ان کے فیصلوں پر سرِ تسلیم خم کر دیتے۔ )
حکایت نمبر279:              احکامِ شریعت کی پابند ی
     قاضی ابو طاہر محمدبن احمد بن عبداللہ بن نَصْر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں:'' مجھے یہ خبر پہنچی کہ''جس علاقے میں حضرت ابوحَازِم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم قاضی تھے ، وہاں کے دو شخص آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس اپنے جھگڑے کا فیصلہ کروانے آئے ، ان کا جھگڑا انتہا کو پہنچ چکا تھا ، وہ کمرۂ عدالت میں بھی ایک دوسرے پر جَھپَٹ رہے تھے۔ قاضی صاحب کے ہوتے ہو ئے کمرہ ئعدالت میں ایک دوسرے پر چھپٹنا ایک مذموم حرکت تھی ۔ ان کی یہ حرکتیں بڑھتی گئیں بالآخر ان میں سے ایک شخص نے کوئی ایسی نازیبا حرکت کی جو سخت تادیبی کاروائی کے لائق تھی ۔ چنانچہ، قاضی صاحب نے حکم دیاکہ اسے توہینِ عدالت کی سزادی جائے تا کہ اسے معلوم ہو کہ اَدَب کتنا ضروری ہے۔ سپاہوں نے اسے سزادی تو اتفاقاً اس کی موت واقع ہوگئی اور موت کا سبب تادیبی کا روائی بنی۔ قاضی صاحب نے جب یہ صورتحال دیکھی تو خلیفہ مُعْتَضِد باللہ کو یہ خط بھیجا:
Flag Counter