خوب وعظ ونصیحت فرمائیں گے اور امیر المؤمنین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے (خوف خدا عزوجل) کے متعلق خوب کھل کر بات کریں گے۔ ''
پھر خلیفہ ہارو ن الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجیدنے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے عرض کی: ''حضور! ہم آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بار گاہ میں ایک مسئلہ لے کر حاضر ہوئے ہیں، خدارا! ہمارا مسئلہ حل فر ما دیجئے تاکہ میرے بیقراردل کوقرار آ جائے۔''
توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' جب حضرت سیدنا عمربن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ العزیزخلیفہ بنے توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت سیدناسالم بن عبداللہ، حضرت سیدنا محمدبن کعب قرظی اورحضرت سیدنارجاء بن حیوٰۃ رحمھم اللہ تعالیٰ کو اپنے پاس بلایا اور ان سے کہنے لگے :''میں تو اس خلافت کی وجہ سے سخت مصیبت میں گر فتار ہوگیا ہوں، مجھے امورِ خلافت کے بارے میں کچھ مشورہ دیجئے۔''
پھرحضرت سیدنافضیل بن عیاض رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''اے امیر المؤمنین!دیکھئے !حضرت سیدناعمربن عبدالعزیز علیہ رحمۃاللہ العزیز نے خلافت کو مصبیت سمجھا لیکن آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اورآپ کے ساتھی اسے نعمت سمجھتے ہیں۔''
اے امیرالمؤمنین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ!جب حضرت سیدناعمربن عبدالعزیز علیہ رحمۃاللہ العزیز نے ان حضرات سے مشورہ لیا توحضرت سیدنا سالم بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''اے عمربن عبدالعزیز علیہ رحمۃاللہ العزیز ! اگر تو اللہ عزوجل کے عذاب سے بچنا چاہتا ہے تو مسلمانوں میں سے جو بزرگ ہیں، ان کی عزت اپنے باپ کی طرح کر، اورجودرمیانی عمرکے ہیں انہیں اپنے بھائیوں کی طرح جان،اورجوتجھ سے عمر میں چھوٹے ہیں انہیں اپنی اولاد کی طرح سمجھ ۔''
حضرت سیدنا رجاء بن حیوٰۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''اے عمربن عبدالعزیز علیہ رحمۃاللہ العزیز !اگرتوعذابِ الٰہی عزوجل سے بچنا چاہتا ہے تومسلمانوں سے محبت کر، اوران کے لئے بھی وہی پسند کر جواپنے لئے پسند کرتا ہے تو دُنیا وآخرت میں مامون رہے گا ۔''
اس کے بعدحضرت سیدنافضیل بن عیاض علیہ رحمۃاللہ الوھاب نے فرمایا: ''اے خلیفہ! میں بھی تجھے سمجھا رہا ہوں اور میں تیرے بارے میں اس دن کی سختی سے شدید خوف زدہ ہوں ''جس دن قدم پھسل رہے ہوں گے۔'' ذرا سوچ! کیا وہاں تجھے کوئی مشورہ دینے والا ہوگا؟ کیا وہاں تیرے وزیر ،مشیرتیراساتھ دیں گے؟
؎ نہ بیلی ہوسکے بھائی، نہ بیٹا باپ تے مائی
توکیوں پھرتا ہے سودائی، عمل نے کام آناہے
یہ سن کر خلیفہ ہارون الرشیدعلیہ رحمۃاللہ العزیز اتنا رو ئے کہ ان پرغشی طاری ہو گئی۔ میں نے کہا :''حضور !خلیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر کچھ نرمی فرمایئے ۔''توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :''اے ربیع !میں ان پر نرمی ہی توکررہا ہوں جبھی تو ایسی باتیں کی ہیں۔ اے ابن ربیع ! حقیقت تو یہ ہے کہ تو اور تیرے دوستوں نے تو خلیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بربادکردیا ہے۔