جب خلیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کوکچھ افاقہ ہو ا تو فرمایا:''اللہ عزوجل آپ پررحم فرمائے ،مجھے کچھ اور نصیحت فرمائیے ۔''
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :اے امیر المؤمنین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ !مجھے خبر پہنچی ہے کہ حضرت سیدنا عمربن عبدالعزیزعلیہ رحمۃاللہ العزیز کے ایک گورنرنے شکایت کی تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے خط بھیجا جس میں لکھا تھا:
'' میں تجھے جہنمیوں کی اس شدید بے چینی وبے آرامی سے ڈراتا ہوں جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہوگی۔ خبر دار!ایسے کاموں سے کوسوں دور بھاگنا جوتجھے اللہ عزوجل کی یادسے دور کردیں۔ یاد رکھ !آخری لمحات میں امید یں ختم ہوجائیں گی۔ ''
جب اس گو رنر نے یہ خط پڑھا تو فوراً حضرت سیدنا عمربن عبدالعزیز علیہ رحمۃاللہ العزیز کی طرف چل دیا۔جب وہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس پہنچا توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس سے پوچھا:'' تجھے کس چیزنے یہاں آنے پرمجبورکیا ؟''اس نے عرض کی:'' حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خط نے میرا دل پارہ پارہ کر دیا ہے ،اب میں کبھی بھی گورنر کا عہدہ قبول نہیں کروں گا یہاں تک کہ مجھے موت آجائے۔'' یہ سن کر خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃاللہ المجیدپھرزورزورسے رونے لگے ،اورفرمایا: اے فضیل بن عیاض رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ !اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے،مزیدکچھ نصیحت فرمائیے۔''
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''اے امیرالمؤمنین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ!جب ہمارے پیارے آقا، دو عالم کے داتا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پیارے چچاحضرت سیدناعباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کی:''یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مجھے کسی شہر کا حاکم بنا دیں تو حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا: ''بے شک امارت (یعنی حکومت) حسرت وندامت ہے ، اگرتجھ سے ہوسکے تو کبھی بھی (کسی پر)امیرنہ بننا ۔''