میں نے عرض کی:''حضرت سیدنا عبدالرزاق ابن ہمام علیہ رحمۃاللہ المنّان کے پاس چلتے ہیں۔''فرمایا:''جلدی کرو،چنانچہ ہم ان کے گھرپہنچے اوردروازہ کھٹکھٹایا، اندرسے آواز آئی:'' کون ہے ؟''میں نے کہا:''جلدی باہر تشریف لائیے، خلیفہ ہارون الرشیدعلیہ رحمۃاللہ المجید آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ملنے آئے ہیں۔'' یہ سنتے ہی حضرت سیدناعبدالرزاق ابن ہمام علیہ رحمۃاللہ المنّان باہر تشریف لائے ،اور کہنے لگے:'' حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کیوں زحمت فرمائی ، مجھے پیغام بھیجا ہوتا میں خود حاضر ہو جاتا۔'' خلیفہ نے کہا:'' اللہ عزوجل آپ پررحم فرمائے،ہم آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس ایک مقصد لے کر حاضر ہوئے ہیں، ہماری پریشانی دور فرمادیجئے۔''
پھرخلیفہ نے ان کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کیا،اور کچھ دیران سے باتیں کرتے رہے۔پھرفرمایا:'' کیا تم پر کسی کا قرض ہے ؟'' انہوں نے جواب دیا:''جی ہاں۔'' خلیفہ نے کہا:'' اے عباس ان کا قرض ادا کردینا ۔''یہ کہہ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آگے بڑھے، اورمجھ سے فرمانے لگے:''ان کے پاس آنے سے بھی میرا مسئلہ حل نہیں ہوا، اے ابن ربیع ! مجھے کسی بہت کا مل بزرگ کی بارگاہ میں لے چلو۔''
میں نے عرض کی:'' حضور!اب ہم حضرت سیدنا فضیل بن عیاض علیہ رحمۃاللہ الوھاب کی بارگاہ میں چلتے ہیں ۔''(وہاں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مسئلہ ضرورحل ہوجائے گا) خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃاللہ المجیدنے فرمایا: ''ٹھیک ہے ،انہیں کی بارگاہ میں چلتے ہیں۔''
چنانچہ ہم ان کے گھرپہنچے دیکھا تو وہ نماز میں مشغول تھے اوربار بار قرآن پاک کی کسی آیت کو پڑھ رہے تھے۔ میں نے دروازہ پردستک دی، اندرسے پوچھا گیا: ''کون ہے ؟''میں نے کہا:'' حضور!باہر تشریف لائیں،خلیفہ ہارون الرشیدعلیہ رحمۃاللہ المجید آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ملناچاہتے ہیں۔''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جواب دیا: ''مجھے امیرالمؤمنین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کیا غرض ؟ اورانہیں مجھ سے کیا کام ہے ؟''میں نے کہا:''سبحان اللہ عزوجل! کیا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علی ہپرامیرکی اطا عت واجب نہیں؟ کیاآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضور نبی رحمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی یہ حدیث پاک نہیں سنی کہ'' مؤمن کے لئے یہ جائز نہیں کہ اپنے آپ کو ذلت میں ڈالے۔''