Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
64 - 410
بر حق ہیں ،کیونکہ ان نعمتوں میں کمی بھی ہوجائے گی۔ اورجس طرح یہ مجھے میراث میں ملی ہیں اسی طرح میرے مرنے کے بعد میرے ورثاء کو مل جائیں گی۔ 

    یہ سن کراس باہمت مبلغ نے کہا :''اے بادشاہ!جب یہ سب باتیں حق ہیں تو پھران معمولی نعمتوں پر فخرکرنا ایک تعجب خیزبات نہیں؟ا ے بادشاہ! یہ نعمتیں تیرے پاس بہت کم عرصہ رہيں گی، اورجب تو اس دنیا سے جائے گا تو خالی ہاتھ جائے گا۔ اورکل بروزِ قیامت تجھ سے ان تمام نعمتو ں کا حساب لیاجائے گا(اوریہ انتہائی سخت امرہے) پھربھی ا س دنیائے فانی میں تیرا دل کیونکر لگاہوا ہے؟''

    دین کا درد رکھنے والے مبلغ کی یہ باتیں بادشاہ کے دل میں تا ثیرکاتیربن کر پیوست ہوگئیں ۔ اس کی آنکھوں سے غفلت کا پردہ ہٹ گیا،اور اس نے بے چین ہو کر کہا: ''اے نوجوان !پھر تم ہی مجھے بتاؤکہ میں ان مصائب سے نجات پاکر کس طرح اپنے مقصدِ اصلی تک پہنچ سکتا ہوں ؟''ا س پر اس خیرخواہ مبلغ نے کہا :''اے بادشاہ! تیرے لئے نجات کے د و راستے ہیں:ایک تویہ ہے کہ تو اپنی بادشاہت قائم رکھ۔ اور ہر حال میں اللہ عزوجل کی اطاعت کر، تمام فیصلے شریعت کے مطابق کر،عدل وانصاف سے کام لے۔ خوشی وغمی ، تنگی اور فراخی ہر حال میں اپنے رب عزوجل کا شکر ادا کر۔ دوسری صورت یہ ہے کہ توتاج وتخت چھوڑ کر درویشی لباس اختیار کرلے، اور کسی پہاڑ کے دامن میں گوشہ نشین ہوکر اپنے پاک پروردگار عزوجل کی عبادت میں مشغول ہو جا۔ تیری نجات کے یہی دوراستے ہیں تو جس کو چاہے اختیارکرلے ۔''بادشاہ نے کہا: ''اے نو جوان! کل میرے پاس آنا، آج رات میں غورکرو ں گا، کہ کونسا راستہ اختیار کرو ں۔ اگرمیں نے بادشاہت والا راستہ اختیارکیاتومیں تجھے اپنا وزیربناؤں گا۔ اور ہر معاملے میں تیری اطاعت کرو ں گا،کبھی بھی تیری نافرمانی نہ کرو ں گا ۔

    اوراگربادشاہت چھوڑکرگو شہ نشینی اختیارکروں گاتوتوُمیرے ساتھ میرا رفیق بن کر رہنا ۔میں تیری ہربات مانوں گا۔'' اتنا کہنے کے بعدبادشاہ اپنے خیمے کی طرف چلاگیا ۔

    صبح کے وقت جب وہ مخلص مبلغ بادشاہ کے پاس گیا تو اس نے دیکھا کہ بادشاہ نے شاہی تاج اورشاہی لباس اتارکرفقیروں والا لباس پہنا ہوا ہے۔اس بادشاہ نے پختہ ارادہ کر لیاتھا کہ خلوت میں رہ کر اپنے رب عزوجل کی عبادت کریگا ۔ چنانچہ وہ تاج و تخت اوردنیا کی رنگینیوں کوچھوڑ کراس مخلص مبلغ کے ساتھ جنگل کی طرف چلا گیا۔اور وہ دونوں آخری وقت تک وہیں ایک پہاڑپراپنے خالقِ حقیقی عزوجل کی عبادت میں مشغول رہے۔''

    بنو تمیم کے مشہور شاعر''عدی بن زید العیادی المرادی''نے ان کی شان میں چند اشعارکہے ،جن کا مفہوم کچھ اس