تمام انتظامات کے بعدجب محفل سج گئی اور تمام لوگ اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے ، تو میں نے سرا ٹھا کرخلیفہ کی طرف دیکھا۔ اس کی نظر بھی مجھ پر پڑ گئی ،اس کے دیکھنے کا انداز ایسا تھا گویا وہ کہہ رہا ہو:'' بولو! کیا بولنا چاہتے ہو؟'' میں نے کہا :''اے امیر المؤمنین! اللہ عزوجل آپ پراپنی رحمتیں نازل فرمائے۔اور آپ کو نعمتوں پر شکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور امور خلافت میں اللہ عزوجل آپ کو سیدھی راہ پر رکھے۔ اور آپ کا انجام ایسا فرمائے جو قابل تعریف ہو، اللہ عزوجل نے آپ کویہ نعمتیں اس لئے دی ہیں تاکہ آپ ان کے ذریعے تقوی اختیار کریں ۔اللہ عزوجل نے آپ کو بکثرت پاکیزہ نعمتیں عطا کی ہیں، ان میں کوئی کدورت (یعنی مَیل) نہیں۔ اور ایسی نعمتیں عطا کی ہیں جن میں خوشیاں ہیں، غم نہیں۔
آپ مسلمانوں کے لئے ایک قابل اعتماد خلیفہ ہیں اور آپ ان کے لئے خوشی او رسرور کا با عث ہیں۔ جب انہیں کوئی مصیبت درپیش ہوتی ہے تو وہ آپ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں ، اورہر مشکل کے وقت آپ ان کے لئے جائے پناہ ہیں، اے امیر المؤمنین! اللہ عزوجل مجھے آپ پر فدا کرے ، جب مجھے آپ کی ہم نشینی اور زیارت کا موقع مل ہی گیا ہے تواب میرا حق بنتا ہے کہ اللہ عزوجل نے آپ پر جو نعمتیں نچھا ور فرمائی ہیں اور جو جو کمالات عطاکئے ہیں ،میں آپ کوان کی یاد دہانی کراؤں اور آپ کوان نعمتوں پر شکر کرنے کی تر غیب دلاؤں ۔ اس کا سب سے بہتر ین طریقہ یہ ہے کہ میں آپ کو سابقہ بادشاہوں کے قصے سناؤں، کیا آپ کی طرف سے مجھے اس بات کی اجازت ہے؟ یہ سن کر خلیفہ ہشام بن عبدالملک سیدھا ہو گیا،سب تکیے ایک طرف رکھ دیئے اورکہا:''اب مجھے سابقہ بادشاہوں کے حالات بتاؤ۔''
میں نے کہا :''اے امیرالمؤمنین! سابقہ با دشاہوں میں ایک بادشاہ تھا ۔وہ بھی سیر وسیاحت کے لئے ایسے ہی موسم میں نکلا جیسا اب موسم ہے، اس سال بھی خوب بارشیں ہوئی تھیں۔زمین پھولوں اورنباتا ت سے مزین ہوگئی تھی ۔جب اس بادشاہ نے ان تمام نعمتوں،اپنے مال ومتاع، خُدّام اور لشکر کی طر ف نظرکی تو بڑے فخرسے کہنے لگا:'' جیسی نعمتیں میرے پاس ہیں کیا کسی اور کو بھی ایسی عظیم الشان نعمتیں ملی ہیں؟'' اس وقت اس کے لشکر میں ایک حق گو مرد مجاہد بھی موجود تھا ۔اس نے بڑے دلیرانہ اندازمیں کہا :'' اے بادشاہ! تو نے ایک بہت بڑے امرکے متعلق سوال کیا ہے۔ اگر اجازت ہو تو میں اس کا جواب دو ں؟''
بادشاہ نے کہا :''ہاں! تم جواب دو۔''چنانچہ اس مردِ مجاہد نے فرمایا:'' اے بادشاہ! یہ جو نعمتیں تمہارے پاس موجودہیں کیایہ تمام کی تمام ہمیشہ تمہارے پاس رہیں گی؟ کیاان میں کمی واقع نہ ہو گی؟کیایہ تجھے بطور میراث نہیں پہنچیں؟کیا تجھ سے زائل ہوکریہ تیرے بعد والوں کو نہ مل جائیں گی؟''
جب بادشاہ نے اس باہمت ومخلص مبلغ کی حقیقت پر مبنی گفتگو سنی تو کہنے لگا: ''اے نوجوان ! تو نے جو باتیں کیں وہ بالکل