طرح ہے :
ترجمہ :(۱)۔۔۔۔۔۔ اے زمانے کو گالی دینے والے! کیا تو ہرچیزمیں کامل، اورہرعیب سے بری ہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔ یا تو نے زمانے سے پختہ عہدلے رکھا ہے؟یا توجاہل اور مغرور ہے؟
(۳)۔۔۔۔۔۔کیا کوئی ایسا شخص بھی ہے جسے موت نے چھوڑدیا ہو؟یا کوئی ایسا شخص ہے جو (تجھے) موت سے بچالے؟
(۴)۔۔۔۔۔۔کہاں ہے کسرٰی ،فارس کے بادشاہ اور ان سے پہلے کے بادشاہ؟ ابو ساسان اور سابور کہا ں گئے؟
(۵)۔۔۔۔۔۔ بہت شان وشوکت والے بادشاہ اور رومی بادشاہ کہا ں ہیں؟ ان میں سے کوئی ایک بھی تو باقی نہ رہا۔
(۶) ۔۔۔۔۔۔وہ بادشاہ کہا ں ہے جس نے ایک محل بنایا جس کے ایک جانب سے دریائے دجلہ اور دو سری جانب سے دریائے'' حلبور''بہتا تھا۔
(۷)۔۔۔۔۔۔اور اس نے محل کو سنگ مرمرسے آراستہ کیا اوراسے مختلف رنگوں سے مزین کیا او ر اس میں ایسے باغا ت لگائے جن میں پرندوں کے گھونسلے تھے۔(یعنی باغ میں ہروقت پرندے چہچہاتے رہتے تھے)
(۸)۔۔۔۔۔۔ موت نے اسے بھی نہ چھوڑا اور اس کی بادشاہت جاتی رہی اور وہ عظیم الشان محل بھی ویران ہوگیا۔
(۹)۔۔۔۔۔۔خورنق کے بادشاہ نے جب ایک دن غورو فکر کیا (تو اسے ہدایت کی راہ ملی) لہٰذا ہدایت پانے کے لئے غور وفکر ضروری ہے۔
(۱۰)۔۔۔۔۔۔ جب اس نے اپنی حالت پر غورکیا اوران کثیر نعمتوں میں غوروفکرکیا جواسے عطا کی گئیں اور جب اس نے وسیع وعریض سمندرکو عبرت کی نگاہ سے دیکھا ۔
(۱۱) ۔۔۔۔۔۔تواس کا دل ڈرگیا۔ اورکہا کہ ایسی زندگی پرکیا اِترانا اور کیا غرور کرنا جو موت کی طرف لے جارہی ہے۔
(۱۲) ۔۔۔۔۔۔بالآخراسے حکومت ، کامیابی اورسرداری کے بعد قبرمیں دفن کردیا گیا۔
حضرت سیدناخالدبن صفوان بن الاھتم علیہ رحمۃاللہ الاعظم کی زبانی خورنق کے بادشاہ کا واقعہ سن کر خلیفہ ہشام بن عبدالملک رونے لگا ۔اور اتنا رویا کہ اس کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی ۔او را س کا عمامہ بھی آنسوؤں سے بھیگ گیا۔پھر خلیفہ نے حکم دیا: ''تمام خیمے اکھاڑ دیئے جائیں اور تمام بستراٹھالئے جائیں اور تمام لشکر فوراً محل کی طرف روانہ ہو جائے۔''
چنانچہ خلیفہ اپنے سارے لشکرکولے کرروتا ہوا محل کی طرف روانہ ہوگیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے( تمام امورِ مملکت اپنے بھائیوں کے سپردکئے اور خود)محل کا ایک کونہ سنبھال لیا۔اورتمام دنیاوی آسائشوں کوچھوڑکراپنے مالک حقیقی عزوجل کی عبادت میں مشغول ہوگیا۔جب اس کے اہل خانہ اور خُدّام وغیرہ نے خلیفہ کی یہ حالت دیکھی تووہ سب کے سب حضرت سیدنا خالدبن صفوان بن الاھتم علیہ رحمۃاللہ الاعظم کے پاس آئے، اور کہنے لگے: آپ رحمۃ اللہ تعا لیٰ علیہ نے امیرالمؤمنین کی کیا حالت کردی ہے ۔آپ رحمۃ اللہ تعا لیٰ علیہ نے اس کی تمام لذّات ختم کردی ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ تعا لیٰ علیہ کی باتیں سن کر اس نے سیر وسیاحت کو بھی ترک کردیا ہے ۔
توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' تم سب مجھ سے دور ہوجاؤ ، بے شک میں نے اپنے پروردگارعزوجل سے وعدہ کیا ہے