اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ! میرے اور آپ کے سامنے ایک تنگ اور دشوار گزار گھاٹی ہے، جسے صرف کمزور اور ضعیف لوگ ہی عبور کرسکیں گے پس ہوسکے تو اپنے آپ کو ہلکا کرلیں ،اللہ عزوجل آپ پر رحم وکرم فرمائے ۔''
یہ سن کرحضرت سیدنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا درہ زمین پرمارا اور فرمایا:'' اے عمر! کاش! تجھے تیری ماں نے جناہی نہ ہوتا ،کاش! وہ بانجھ ہوتی ۔''
پھر فرمایا :''کیا کوئی ایسا ہے جو مجھ سے خلافت کو اس کی ذمہ داریوں اور اس کے ثواب کے ساتھ قبول کرلے ۔''
حضرت سیدنا اویس قرنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے عرض کی:''اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ !جو کوئی اللہ عزوجل سے ڈرتا ہے وہ اس (خلافت) سے دوربھاگتاہے (ہماری جدائی کا وقت آگیا ہے)اب آپ ایک طرف تشریف لے جائیں او رمیں دوسری طر ف چلاجاتا ہوں۔چنانچہ امیرالمؤمنین حضرت سیدناعمرفاروق اور حضرت سیدناعلی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہما مکۃ المکرمہ کی طرف تشریف لے گئے ۔اور آپ رحمۃ اللہ تعا لیٰ علیہ اونٹوں کو لے کر دو سری طرف چل دیئے، اور اونٹوں کو قوم کے حوالے کردیا ۔
پھرسب کام چھوڑ کر صرف اللہ عزوجل کی عبادت میں مشغول ہوگئے اور بالا ۤخر اپنے خالق حقیقی عزوجل سے جاملے ۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)))