Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
61 - 410
بتائی ہیں، ہم آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی باتوں اور رنگت کے متعلق بتائی ہوئی نشانیاں توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میں دیکھ چکے ہیں ، لیکن ہمارے غیب دان آقا، مدینے والے مصطفےٰصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ایک نشانی اور بتائی تھی کہ اس کے سیدھے کندھے کے نیچے ایک سفید نشان ہوگا۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ذرا اپناسیدھاکندھا ہمیں دکھادیں ،اگر وہ نشان موجود ہوا تو ہم پہچا ن جائیں گے کہ آپ ر حمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہی کے متعلق ہمارے غیب دان آقا، مدینے والے مصطفےٰصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے غیب کی خبر دی ہے ۔

     یہ سن کر حضرت سیدنا اویس قرنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے اپنے کندھے سے چادر ہٹائی تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مبارک کندھے کے نیچے سفید نشان موجود تھا۔ نشان دیکھتے ہی دونوں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حضرت سیدنا اویس قرنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کو بو سہ دیا اور فرمایا : ''ہم گواہی دیتے ہیں کہ تم ہی وہ اویس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہو جس کے متعلق ہمیں نبی غیب داں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے خبر دی تھی۔ اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے، آپ رحمۃ اللہ تعا لیٰ علیہ ہمارے لئے مغفرت کی دعا کریں ۔''

    یہ سن کر حضرت سیدنااویس قرنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے عرض کی:'' میں نہ توصر ف اپنے لئے استغفارکرتا ہوں اور نہ ہی کسی فردِ معین کے لئے،بلکہ میں تو ہر مؤمن مرد وعورت کے لئے استغفار کرتا ہوں۔ آپ لوگو ں پر اللہ عزوجل نے میرا حال تو منکشف فرماہی دیا ہے ، اب آپ اپنے متعلق بتائیں کہ'' آپ کون ہیں ؟''

    حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم نے یہ سن کرجواب دیا: ''یہ امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ ہیں۔ اور میں علی بن ابو طالب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)ہوں۔'' یہ سنتے ہی حضر ت سیدنا اویس قرنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی باادب کھڑے ہوگئے اورعرض کی:''اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ !اللہ عزوجل آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلامت رکھے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔''

     یہ سن کرامیر المؤمنین حضرت سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''اللہ عزوجل آپ پر بھی رحم فرمائے ، آپ رحمۃ اللہ تعا لیٰ علیہ اسی مقام پر میرا انتظار فرمائیں۔ تاکہ میں آپ رحمۃ اللہ تعا لیٰ علیہ کے لئے مکہ مکرمہ سے کچھ چیزیں خرید لاؤں اور کچھ کپڑے وغیرہ لے آؤں آپ رحمۃ اللہ تعا لیٰ علیہ مجھے یہیں ملنا ۔ ''

    آپ رحمۃ اللہ تعا لیٰ علیہ نے عرض کی:'' حضور! آپ تکلف نہ فر مائیں ،شاید! آج کے بعد میں آپ کی زیارت نہ کر سکوں گا او ر ویسے بھی میں کپڑوں اور پیسوں کا کیا کروں گا؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دیکھ ہی رہے ہیں کہ میرے پاس اون کی دو چادریں موجود ہیں، میں انہیں پھاڑتو نہیں دو ں گا ۔اور یہ دیکھیں میرے پاس چمڑے کے جوتے ہیں میں اتنی جلدی انہیں بیکار تھوڑاہی کرو ں گا، باقی رہا پیسوں کا مسئلہ تو میری قوم نے مجھے اونٹوں کی رکھوالی اورچرائی کے بدلے چار درھم دیتے ہیں جو میرے لئے کافی ہیں ۔