اللہ تعالیٰ عنہما تقریباًدس سال تک حضرت سیدنااویس قرنی علیہ رحمۃاللہ الغنی کو تلاش کرتے رہے، لیکن ان کے بارے میں معلو مات نہ ہو سکیں۔پھر جس سال امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا، اسی سال آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج کے موقع پر جبل'' ابو قیس''پر کھڑے ہوکرلوگو ں سے مخاطب ہوتے ہوئے باآواز بلند فرمایا :
''اے یمن سے آنے والے حاجیو! کیا تم میں کوئی اویس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نامی شخص موجود ہے؟ ''یہ سن کر ایک بوڑھا شخص کھڑا ہوا اور عرض کی:''ہم نہیں جانتے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کس اویس کے متعلق پوچھ رہے ہیں ؟ ہاں! میرا ایک بھائی ہے جس کا نام اویس ہے ، لیکن وہ تو بہت غریب اور عام سا آدمی ہے ، وہ اس قابل کہاں کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے متعلق سوال کریں،وہ تو ہمارا چرواہا ہے، اور ہمارے ہاں اس کی کوئی قدر ومنزلت نہیں۔''یہ سن کر حضرت سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ بہت غمگین ہوئے گویا کہ حضرت سیدنا اویس قرنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کے بارے میں اس شخص کااس طرح بولناآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سخت ناگوار گزرا ہو۔''
تھوڑی دیربعدآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس بوڑھے شخص سے پوچھا :'' تیرا وہ بھائی کہا ں ہے ؟کیا وہ ہمارے حرم میں موجود ہے ؟ ''اس نے جواب دیا :''جی ہاں! وہ حرم شریف ہی میں موجود ہے،شاید! اب وہ میدان عرفات کی طر ف ہوگا۔''
یہ سن کر امیرالمؤمنین حضرت سیدناعمر فاروق اعظم اور حضرت سیدناعلی المرتضٰی رضی اللہ تعا لیٰ عنہما فوراً میدان عرفات کی طرف چل دیئے ۔جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ وہ عاشقِ صادق ایک درخت کے نیچے نماز پڑھ رہا ہے، اور اونٹ اس کے اردگرد چررہے ہیں ۔ یہ دیکھ کر حضرت سیدناعمر فاروق اعظم اور حضرت سیدناعلی المرتضٰی رضی اللہ تعا لیٰ عنہما اپنی سواریوں سے نیچے اترآئے اور اس عاشقِ صادق کے پاس آکر سلام کیا۔
حضرت سیدنا اویس قرنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے نماز کو مختصر کیا، اور نماز سے فارغ ہو کر سلام کا جواب دیا ۔ امیرالمؤمنین حضرت سیدناعمر فاروق اعظم اور حضرت سیدناعلی المرتضٰی رضی اللہ تعا لیٰ عنہما نے پوچھا:'' اے شخص! تو کون ہے ؟'' اس نے جواب دیا:'' میں اپنی قوم کا مزدور او رچروا ہا ہوں۔ آپ دونوں حضرات رضی اللہ تعا لیٰ عنہما نے فرمایا :''ہم تجھ سے ان چیز وں کے متعلق سوال نہیں کررہے بلکہ یہ بتائیں،آپ کا نام کیا ہے؟'' انہوں نے جواب دیا: ''میں عبداللہ (یعنی اللہ عزوجل کا بندہ) ہوں ۔'' فرمایا:'' یہ تو ہم بھی جانتے ہیں کہ زمین وآسمان میں موجود تمام لوگ اللہ عزوجل ہی کے بندے ہیں ،تم اپنا وہ نام بتاؤ جو تمہاری ماں نے رکھا ہے؟''
یہ سن کر حضرت سیدنا اویس قرنی علیہ رحمۃاللہ الغنی نے عرض کی:'' آپ لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ ''توانہوں نے ارشاد فرمایا:''ہمارے میٹھے میٹھے آقا، مدینے والے مصطفےٰصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ہمیں اویس قرنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کے متعلق چند نشانیاں