Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
59 - 410
حکایت نمبر13:          حضرت اُویس قرنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کے فضائل
    حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، رحمتِ عالم، نورِ مجسَّم شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''بےشک اللہ عزوجل اپنے بندوں میں سے ان کو زیادہ پسند فرماتا ہے جو مخلص ، پر ہیز گار اور گمنام ہوتے ہیں ، جن کے چہرے گرد آلود ، بھوک کی وجہ سے پیٹ کمر سے ملے ہوئے ، اور بال بکھرے ہوئے ہوں ، اگر وہ امراء کے پاس جانا چاہیں تو انہیں اجازت نہ ملے ، اگر کسی محفل میں موجود نہ ہوں تو کوئی ان کے متعلق سوال نہ کرے ، اوراگر موجود ہوں تو کوئی انہیں اہمیت نہ دے ، اگر وہ کسی سے ملاقات کریں تو لوگ ان کی ملاقات سے خوش نہ ہوں ، اگر وہ بیمار ہوجائیں تو کوئی ان کی عیادت نہ کرے ، اور جب مرجائیں تو لوگ ان کے جنازہ میں شریک نہ ہوں ۔

    صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :''یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ایسے لو گوں سے ہماری ملاقات کیسے ہوسکتی ہے ؟ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: '' اویس قرنی (علیہ رحمۃاللہ الغنی) انہی لوگوں میں سے ہيں۔'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:'' یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!اویس قرنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کون ہے ؟''میٹھے میٹھے آقا، مدینے والے مصطفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے غیب کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :''اس کا قددرمیانہ ،سینہ چوڑا ، رنگ شدید گندمی ، داڑھی سینہ تک پھیلی ہوئی اس کی نگاہیں جھکی جھکی ، اپنے سیدھے ہاتھ کو الٹے ہاتھ پر رکھ کر قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے، زارو قطار رونے والا ہے ، اس کے پاس دو چادریں ہیں؛ ایک بچھانے کے لئے اور ایک اوڑھنے کے لئے ، دنیا والوں میں گمنام ہے، لیکن آسمانوں میں اس کا خوب چرچاہے ۔ اگر وہ کسی بات پر اللہ عزوجل کی قسم کھالے تو اللہ عزوجل ضرور اس کی قسم کو پورا کریگا، اس کے سیدھے کندھے کے نیچے سفید نشان ہے۔ کل بروزِ قیامت نیک لوگو ں سے کہا جائے گا : '' تم لوگ جنت میں داخل ہوجاؤ۔'' لیکن اویس قرنی ( علیہ رحمۃ اللہ الغنی) سے کہا جائے گا :'' تو ٹھہرجا اور لوگو ں کی سفارش کر ۔'' چنانچہ وہ قبیلہ ربیعہ اور مضر کے لوگو ں کی تعداد کے برابر گناہگاروں کی سفارش کریگا ۔''
           (حلیۃ الاولیاء، اویس بن عامر القرنی، الحدیث:۱۵۶۷،ج۲، ص۹۶۔۹۷)

(صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل اویس القرنی، الحدیث:۲۲۴(۲۵۴۲)، ص۱۱۲۳)
    پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سیدنا عمر فاروق اور حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا: ''جب بھی تم دونوں کی ملاقات اویس قرنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی سے ہو ، تو اس سے اپنے لئے دعائے مغفرت کروانا۔''

    حضر ت سیدنا علقمہ بن مرثد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:'' حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم اور حضرت سیدناعلی المرتضیٰ رضی
Flag Counter