| عُیونُ الحِکایات (حصہ اول) |
فرمائیے تا کہ میں اسے یاد رکھوں ۔ بے شک میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے صرف اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر محبت کرتا ہوں ۔یہ سن کر حضرت سیدنااویس قرنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے میرا ہاتھ پکڑا،اوراَعُوْذُ بِاللہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم پڑھ کر فرمایا: میرے رب عزوجل کا کلام سب کلاموں سے اچھا ہے ۔پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سورہ دخان کی یہ آیتیں تلاوت فرمائیں:
وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَمَا بَیۡنَہُمَا لٰعِبِیۡنَ ﴿38﴾مَا خَلَقْنٰہُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوۡنَ ﴿39﴾ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیۡقَاتُہُمْ اَجْمَعِیۡنَ ﴿ۙ40﴾یَوْمَ لَا یُغْنِیۡ مَوْلًی عَنۡ مَّوْلًی شَیْـًٔا وَّ لَا ہُمْ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿ۙ41﴾اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ اللہُ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الْعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿٪42﴾
ترجمہ کنزالایمان:اورہم نے نہ بنائے آسمان اورزمین اورجوکچھ ان کے درمیان ہے،کھیل کے طورپر۔ہم نے انہیں نہ بنایامگرحق کے ساتھ لیکن ان میں اکثر جانتے نہیں۔بے شک فیصلہ کادن ان سب کی میعاد ہے۔ جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کی مدد ہوگی، مگر جس پراللہ رحم کرے، بے شک وہی عزت والا مہربان ہے۔ (پ 25،الدخان: 38تا42)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہ چند آیتیں پڑھیں پھر ایک زور دار چیخ ماری۔ میرے گمان کے مطابق شاید آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بے ہوش ہوگئے تھے، جب انہیں کچھ افاقہ ہوا تو فرمانے لگے:'' اے ابن حیان!تیرا باپ فوت ہوچکا، عنقریب تو بھی اس دنیا سے رخصت ہوجائے گا۔ پھر یا تو تیرا ٹھکانا جنت میں ہو گایا پھر معا ذ اللہ عزوجل جہنم میں ۔(اللہ عز وجل ہم سب کو جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھے)
اے ابن حیان علیہ رحمۃ اللہ المناّن!تیرا باپ حضرت سیدناآدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام اور تیری ماں '' حضرت سیدتناحوا'' رضی اللہ تعا لیٰ عنہا اس دنیا فانی سے جاچکے ، حضرات انبیاء کرام علیٰ نبیناوعلیہم الصلوٰۃ والسلام حضرت سیدنا نوح ، حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ، حضرت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ ،حضرت سیدناداؤ د علیٰ نبیناوعلیہم الصلوٰۃ والسلام اور ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمبھی اس دنیا سے ظاہری پردہ فرما چکے ، خلیفہ اوّل امیرالمؤمنین حضر ت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی انتقال ہوگیا، اور میرے بھائی اور دوست خلیفہ ثانی امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فارو ق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی وصال ہوگیا۔ جب میں نے یہ سنا توفوراً کہا :''حضور! یہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کیا فرمارہے ہیں؟ حضرت سیدنا عمر فارو ق ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ تو ابھی حیات ہیں ،ان کا ابھی وصال نہیں ہوا۔'' یہ سن کرآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' مجھے میرے پروردگار عزوجل نے خبردی ہے ، اورمیرا دل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ان کا انتقال ہوچکا ہے، عنقریب میں اور آپ بھی اس دنیا فانی سے رخصت ہوجائیں گے۔''
پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں درودوسلام کے گجرے نچھاور کئے اور آہستہ آواز میں دعائیں مانگنا شروع کردیں۔