ان کا رنگ انتہائی گندمی ،جسم دبلا پتلا،سر گرد آلوداور چہرہ انتہائی بارعب تھا۔ میں نے قریب جاکر انہیں سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا، اور میری طرف دیکھا۔ میں نے فوراً مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا لیکن انہوں نے مصافحہ نہ کیا۔میں نے کہا : ''اے اویس (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)! اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے ،آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کیسے ہیں؟ ''ان کو اس حالت میں دیکھ کراور ان سے شدید محبت کی وجہ سے میری آنکھیں بھر آئیں اور میں رونے لگا۔ مجھے روتا دیکھ کر وہ بھی رونے لگے ۔
اور مجھ سے فرمایا:'' اے میرے بھائی ہرم بن حیان (علیہ رحمۃاللہ المناّ ن )!اللہ عزوجل آپ کو سلامت رکھے، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کیسے ہیں ؟ اورمیرے بارے میں اپ کوکس نے بتا یا کہ میں یہاں ہوں؟ ''میں نے جواب دیا:''اللہ عزوجل نے مجھے تمہاری طر ف راہ دی ہے۔''
یہ سن کرآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے'' لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ ''اور'' سُبْحٰنَ اللہِ ''کی صدائیں بلند کیں،اور فر مایا:''بے شک ہمارے رب عزوجل کا وعدہ ضرور پورا ہونے والا ہے ۔''
پھر میں نے ان سے پوچھا :''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو میرااور میرے والد کا نام کیسے معلوم ہوا؟ ''حالانکہ آج سے پہلے نہ کبھی میں نے آپ کو دیکھا اور نہ ہی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھے دیکھا۔''
یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ''مجھے میرے علیم وخبیرپروردگار عزوجل نے خبردی ہے۔ اے میرے بھائی ھر م بن حیان(علیہ رحمۃاللہ المناّ ن )! میری روح تیری روح کو اس وقت سے جانتی ہے جب (عالمِ ارواح) میں تمام روحوں کی آپس میں ملاقات ہوئی تھی ۔بے شک بعض مؤمن اپنے بعض مؤمن بھائیوں کوجانتے ہیں اور وہ اللہ عزوجل کے حکم سے ایک دوسرے سے اُلفت ومحبت رکھتے ہیں، اگرچہ ان کی بظاہرملاقات نہ ہوئی ہو،اگرچہ وہ ایک دوسرے سے بہت دور رہتے ہوں۔
پھر میں نے ان سے کہا :''اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے ،مجھے رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی کوئی حدیث سنائیے۔''یہ سن کر انہوں نے فرمایا: ''آپ پر میرے ماں باپ قربان! مجھے نہ تو حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی صحبت با برکت نصیب ہو ئی ا ور نہ ہی میں ان کی زیارت سے مشرف ہوسکا ،ہاں! اتنا ضرور ہے کہ میں نے ان عظیم ہستیوں کی زیارت کی ہے جن کی نظریں میرے آقاو مولیٰ حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے والضّحی والے چہرے کی زیارت کرچکی ہیں ۔میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اپنے اوپر اس بات کا دروازہ کھولوں کہ لوگ مجھے محدث ، مفتی یا راوی کہیں، میں لوگوں سے دور رہنا چاہتاہوں اور اپنی اس حالت پر خوش ہوں۔''
پھر میں نے ان سے کہا :'' اے میرے بھائی! مجھے اللہ عزوجل کے کلام سے کچھ تلاوت ہی سنا دیجئے ، اور مجھے کچھ نصیحت