Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
55 - 410
(۷)حضرت سیدنا اویس قرنی علیہ رحمۃاللہ الغنی
    حضرت سیدنا علقمہ بن مرثد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت سیدنااویس قرنی علیہ رحمۃاللہ الغنی کے حالات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :'' حضرت سیدنااویس قرنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کے خاندان والوں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو مجنون سمجھا ہوا تھا، اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے لئے اپنے گھروں کے قریب کمرہ بنا یاہوا تھا۔ دودوسال گزر جاتے لیکن گھر والے آپ کی طر ف تو جہ نہ دیتے، نہ ہی آپ کی خبر گیری کرتے ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی گزر بسر اس طر ح کرتے کہ کھجور کی گٹھلیاں چنتے ، شام کو انہیں بیچتے اور ان کے بدلے جو رَدِّی کھجور یں وغیرہ ملتیں انہیں افطاری کے لئے رکھ لیتے (اور انہیں کھا کر اللہ عزوجل کا شکر ادا کرتے ) 

    جب حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ خلیفہ بنے، توایک مرتبہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج کے اجتماع میں فرمایا: ''اے لوگو ! کھڑے ہوجاؤ ۔'' حکم پاتے ہی تمام لوگ کھڑے ہوگئے ۔پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: '' قبیلہ ُمراد کے لوگو ں کے علاوہ سب بیٹھ جائیں۔''(چند لوگوں کے علاوہ) سب بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا: ''تم میں سے ''قبیلہ قرن''کے لوگ کھڑے رہیں باقی سب بیٹھ جائیں ۔''ایک شخص کے علاوہ سب بیٹھ گئے، یہ کھڑا ہونے والا شخص حضرت سیدنا اویس قرنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کا چچا تھا ۔

     امیر المؤ منین حضرت سیدناعمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے ان سے پوچھا :''کیاآپ ''قبیلہ قرن ''کے رہنے والے میں ا؟'' انہوں نے عرض کی :''جی ہاں !میں'' قرن ''ہی کا رہنے والاہوں۔'' پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا :''کیا آپ اویس قرنی کو جانتے ہيں ؟'' اس نے جواب دیا:'' حضور! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جس اویس( رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کے متعلق سوال کررہے ہیں وہ تو ہمارے ہاں احمق مشہور ہے، وہ اس لائق کہاں کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے متعلق استفسار فرمائیں ،وہ توپاگل و مجنون ہے ۔''

    یہ سن کرآپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ رونے لگے، اور فرمایا:'' میں اُس پر نہیں بلکہ تم پر رو رہاہوں،میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ''اللہ عزوجل اُویس قرنی کی شفاعت سے'' قبیلہ ربیعہ'' اور ''قبیلہ مضر'' کے برابر لوگو ں کوجنت میں داخل فرمائے گا ۔ ''
 (سنن ابن ماجۃ، ابواب الزھد، باب صفۃ النار، الحدیث۴۳۲۳،ص۲۷۴۰)

(مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب الفضائل، باب ما ذکر فی اویس القرنی، الحدیث۱،ج۷،ص۵۳۹)
    حضرت سیدنا ہرم بن حیان علیہ رحمۃ اللہ المنان فرماتے ہیں:'' جب مجھ تک یہ حدیث پہنچی تو میں فوراً ''کو فہ'' کی طر ف روانہ ہوا ۔میرا وہاں جانے کا صرف یہی مقصد تھا کہ حضرت سیدنااویس قرنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کی زیارت کرلو ں،اور ان کی صحبت سے فیضیاب ہوسکوں۔'' کوفہ '' پہنچ کرمیں انہیں تلاش کرتا رہا۔ بالآخر میں نے انہیں دوپہر کے وقت نہرفرات کے کنارے وضوکرتے پایا ۔ جو نشانیاں مجھے ان کے متعلق بتائی گئی تھیں ان کی وجہ سے میں نے انہیں فوراً پہچان لیا ۔
Flag Counter