| عُیونُ الحِکایات (حصہ اول) |
وہ تجھے یزید بن عبد الملک کے شر سے محفوظ رکھے گا جبکہ یزید بن عبد الملک تجھے اللہ عزوجل کی پکڑ سے ہر گز نہیں بچا سکتا۔
اے ابن ہبیرہ ! ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا ،اگر تو نے یزید بن عبدالملک کا کوئی ایسا حکم مانا جس میں اللہ عزوجل کے حکم کی نافرمانی ہو تو کہیں ایسا نہ ہوکہ اس کی وجہ سے اللہ عزوجل تجھ پر نگاہِ غضب ڈالے اور مغفرت کے دروازے تجھ پر بندکر دے ۔
میری ملاقات اس امت کے سابقہ لوگو ں سے بھی ہوئی ہے۔ وہ دنیا سے اتنے ہی دور بھاگتے تھے جتنی تم اس کی خواہش کرتے ہو، حالانکہ دنیا ان کے قدموں میں گر تی تھی اور تم سے کوسو ں دور بھا گتی ہے۔ اے ابن ہبیرہ! اللہ عزوجل نے جس مقام سے تجھے ڈرایا ہے، میں بھی تجھے اس مقام سے ڈراتا ہوں ۔''اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:ذٰلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیۡ وَخَافَ وَعِیۡدِ ﴿14﴾
ترجمہ کنزالایمان:یہ اس لئے ہے جومیرے حضورکھڑے ہونے سے ڈرے اورمیں نے جوعذاب کاحکم سنایاہے اس سے خوف کرے۔ ( پ13، ابراہیم:14)
پھرآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' اگر تواللہ عزوجل کی اطاعت کریگا تو اللہ عزوجل تجھے یزید بن عبدالملک کے شرسے بچائے گا اور اگر تو یزید بن عبدالملک کی اطاعت اور اللہ عزوجل کی نافرمانی کریگاتو اللہ عزوجل تجھے یزید بن عبدالملک کے سپر د کر دے گا ۔''
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی یہ نصیحت آموز باتیں سن کر حضرت سیدنا عمر بن ہبیرہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی آنکھیں بھر آئیں اور وہ زار وقطار روتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔
دو سرے دن حضرت سیدناعمربن ہبیرہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ان دو نوں بزرگو ں کے لئے تحائف بھجوائے، حضرت سیدنا امام شعبی علیہ رحمۃاللہ الہادی کی نسبت حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃاللہ القوی کے تحائف زیادہ تھے(حضرت سیدنا امام شعبیعلیہ رحمۃاللہ الہادی)مسجد کی طر ف روانہ ہوئے اور (تحائف دیکھ کر) کہا :''اے لوگو! تم میں سے جو بھی اس بات پر قادر ہو کہ وہ اللہ عزوجل کے حکم کو دنیا داروں پر تر جیح دے تو اسے ضرور ایسا ہی کرنا چاہے ۔
اس پاک پر ورد گار عزوجل کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! ایسا نہیں ہے کہ جس چیز کو حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ ا لقوی جانتے ہیں ،میں اس سے جاہل ہوں، بلکہ بات دراصل یہ ہے میں نے ابن ہبیرہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی خوشنودی چاہی لیکن اللہ عزوجل نے مجھے اس سے دور کردیا(یعنی میں حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃاللہ القوی کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتا )(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)