Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
53 - 410
قدموں کی خاک جتنی بھی نہیں ، اور وہ ایسے عظیم لوگ تھے کہ اگر ان میں سے کسی کو رات کے وقت تھوڑا سابھی کھانا ملتا تو کہتا: میں اکیلا یہ سارا کھانا نہیں کھاؤں گا بلکہ اس میں سے کچھ ضرور اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر صدقہ کر وں گا، حالانکہ خود ان کی ایسی حالت ہوتی کہ ان پر صدقہ کیا جائے ۔

    حضرت سیدناعلقمہ بن مرثدرحمۃاللہ تعا لیٰ علیہ فرماتے ہیں:''جب حضرت سیدناعمر بن ہبیرہ رحمۃاللہ تعا لیٰ علیہ عراق کے گور نر بن کر آئے تو انہوں نے حضرت سیدناامام حسن بصری اور امام شعبی علیہما رحمۃاللہ الکافی کو اپنے پاس بلایا اور انہیں ایک گھر دے دیا جس میں آپ دونوں حضرات رحمۃاللہ تعالیٰ علیہما تقریبا ًایک ماہ قیام فرما رہے۔ ایک دن صبح صبح ایک خادم ان کے پا س آیا اور کہا:'' حضرت سیدنا عمر بن ہبیرہ رحمۃاللہ تعا لیٰ علیہ آپ سے ملاقات کے لئے آرہے ہیں ، اتنی ہی دیر میں حضرت سیدناعمربن ہبیرہ رحمۃ اللہ تعا لیٰ علیہ اپنی لاٹھی سے سہارا لیتے ہوئے وہاں آپہنچے۔ آتے ہی سلام کیااور بڑے مؤدبا نہ انداز میں آپ دونوں حضرات رحمۃاللہ تعا لیٰ علیہماکے سامنے بیٹھ گئے ۔

    پھر(گورنرِ عراق) حضرت سیدنا عمربن ہبیرہ رحمۃاللہ تعا لیٰ علیہ نے کہا:''یزید بن عبدالملک نے مجھے ایک خط بھیجا ہے جس میں کچھ احکام نافذ کرنے کا حکم دیاگیا ہے، اور میں جانتا ہوں کہ ان احکام کے نفاذ میں ہلاکت ہی ہلاکت ہے ۔ اب اگر میں اس کی اطاعت کرتا ہوں تو اللہ عزوجل کی نافرمانی ہوتی ہے ، اور اگر اللہ عزوجل کی اطاعت کرو ں تو اس (یعنی یزید بن عبدالملک )کے حکم سے رو گر دانی ہو گی ،اب آپ حضرات ہی کوئی ایساطریقہ بتائیں کہ میں یزید بن عبدالملک کے حکم سے خلا صی پاجاؤں۔''

     یہ سن کرحضر ت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے حضرت سیدناامام شعبی علیہ رحمۃاللہ الکافی سے فرمایا:'' اے ابو عمر! تم ہی ان کے سوال کا جواب دو۔'' حضرت سیدناامام شعبیعلیہ رحمۃاللہ الکافی نے کچھ اس طرح گفتگو کی:''اے ابن ہبیرہ!تمہاری سلامتی اسی میں ہے کہ تم یزید بن عبد الملک کی بات مان لو۔'' یہ سن کر حضرت سیدناعمر بن ہبیرہ رحمۃااللہ تعالیٰ علیہ حضرت سیدناحسن بصری علیہ رحمۃاللہ القوی کی طرف متو جہ ہوئے اور عرض کی:'' حضور !آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''امام شعبی علیہ رحمۃاللہ الکافی نے جو کچھ کہا وہ تو آپ سن چکے۔''عر ض کی:'' حضور! آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) اس بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟''

     اما م حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے ارشاد فرمایا:'' اے ابن ہبیرہ! عنقریب اللہ عزوجل کے فر شتوں میں سے ایک فرشتہ تیرے پاس آئے گا،جوبہت مضبوط اور انتہائی کرخت لہجے والاہوگا۔وہ کبھی بھی اللہ عزوجل کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتا، پھر وہ تجھے تیرے خوبصورت و کشادہ محل سے نکال کر انتہائی تنگ و تاریک قبر میں پہنچا دے گا۔ اے ابن ہبیرہ !اگر تو اللہ عزوجل سے ڈرے گا تو