Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
39 - 410
    ہم ہرحال میں اپنے رب عزوجل کے ہر فیصلے پر راضی ہیں ، ہر معاملے میں اس کی اطاعت کرنے والے ہیں۔ اے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ !رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے وصال کے بعدآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جدا ئی کا غم مسلمانوں کے لئے سب سے بڑاغم ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات اہل اسلام کے لئے عزت کا باعث بنی ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمانوں کے لئے بہت بڑاسہارا اورجائے پناہ تھے۔ اللہ عزوجل نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آخری آرام گاہ اپنے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے قرب میں بنائی۔ اللہ عزوجل ہمیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے اچھا اجر عطا فرمائے، اورہمیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد صراطِ مستقیم پرثابت قدم رکھے۔ اور گمراہی سے بچائے ۔''(آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)

    لوگ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کا کلام خاموشی سے سنتے رہے۔جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خاموشی اختیار کی تو لوگوں نے زاروقطار رونا شروع کر دیا اور سب نے بیک زبان ہوکر کہا، اے حیدرِ کرَّار!آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بالکل سچ فرمایا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بالکل سچ فرمایا۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)
حکایت نمبر7: امیرالمؤمنین حضرت سیدناعمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت
    حضرت سیدنا عمر وبن میمون رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''جس دن حضرت سیدنا عمرفاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حملہ کیا گیا اس دن میں وہیں موجود تھا ۔ حضرت سیدنا عمرفاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نمازِ فجر کے لئے صفیں درست کرو ارہے تھے۔ میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بالکل قریب کھڑا تھا، ہمارے درمیان صرف حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما حائل تھے۔ حضرت سیدنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ صفوں کے درمیان سے گزرتے اور فرماتے :اپنی صفیں درست کرلو۔جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھاکہ صفیں بالکل سیدھی ہوچکی ہیں، نمازیوں کے درمیان بالکل خلا نہیں رہااورسب کے کندھے ملے ہوئے ہیں تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھے ا ور تکبیرتحریمہ کہی۔

    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادتِ کریمہ تھی کہ صبح کی نماز میں اکثر سورہ یوسف اور سورہ نحل میں سے قراء َت فرماتے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلی رکعت میں کچھ زیادہ تلاوت فرماتے تاکہ بعدمیں آنے وا لے بھی جماعت میں شامل ہو سکیں، ابھی آپ رضی اللہ
Flag Counter