Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
38 - 410
تعالیٰ عنہ اسے جانتے تھے اورجب لوگوں نے بے صبری کامظاہرہ کیاتوآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صبرسے کام لیا۔ جوچیزلوگ طلب کرتے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عطا فر ما دیتے ۔ لوگ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیروی کرتے رہے اورکامیابی کی طرف بڑھتے رہے ۔اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشوروں اورحکمت عملی کی وجہ سے انہیں ایسی ایسی کامیابیاں عطاہوئیں جو ان لوگوں کے وہم وگمان میں بھی نہ تھیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کافروں کے لئے دردناک عذاب اور مؤمنوں کے لئے رحمت ،شفقت اور محفوظ قلعہ تھے۔خداعزوجل کی قسم!آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی منزلِ مقصودکی طرف پرواز کر گئے۔ اور اپنے مقصودکوپالیا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے کبھی غلط نہ ہوئی، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کبھی بزدلی کا مظاہرہ نہ کیا،آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ بہت نڈرتھے ، کبھی بھی نہ گھبراتے گویا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جذبوں اور ہمتوں کا ایسا پہاڑ تھے جسے نہ تو آندھیاں ڈگمگاسکیں نہ ہی سخت گرج والی بجلیاں متزلزل کر سکیں۔ 

    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ با لکل ایسے ہی تھے جیسے حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرمایا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بدن کے اعتبار سے اگرچہ کمزور تھے لیکن اللہ عزوجل کے دین کے معاملے میں بہت زیادہ قوی ومضبوط تھے۔ آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ اپنے آپ کوبہت عاجز سمجھتے، لیکن اللہ عزوجل کی بارگاہ میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کارتبہ بہت بلندتھا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کی نظروں میں بھی بہت باعزت و باوقار تھے۔ ''

    حضرت سیدناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریف کرتے ہوئے مزید فرما یا:''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کبھی کسی کو عیب نہ لگایا، نہ کسی کی غیبت کی اورنہ ہی کبھی لالچ کیا۔بلکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں پر بہت زیادہ شفیق ومہربان تھے، کمزوروناتواں لوگ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک محبوب اورعزت وا لے ہو تے، اگر کسی مالدار اورطاقتور شخص پر ان کا حق ہوتا تو انہیں ضرور ان کاحق دلواتے۔ طاقت اورشان وشوکت والوں سے جب تک لوگوں کا حق نہ لے لیتے وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک کمزور ہوتے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک امیر وغریب سب برابر تھے، آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ مقرب ومحبوب وہ تھاجو سب سے زیادہ متقی و پرہیزگارتھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صدق وسچائی کے پیکرتھے ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کافیصلہ اٹل ہوتا ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت مضبوط رائے کے مالک ا ور حلیم وبردبار تھے۔ خدا عزوجل کی قسم! آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہم سب سے سبقت لے گئے،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد والے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کامقابلہ نہیں کر سکتے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سب کوپیچھے چھوڑ دیا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی منزلِ مقصود کوپہنچ گئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبہت عظیم کامیابی حاصل ہوئی ، (اے یارِغار!) آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شان سے اپنے اصلی وطن کی طرف کوچ کیا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظمت کے ڈنکے آسمانو ں میں بج رہے ہیں اور آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کی جدائی کاغم ساری دنیاکورُلارہاہے
۔اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہٖ رَاجِعُوْنَ۔
Flag Counter