تعالیٰ عنہ نے نمازشروع ہی کی تھی کہ ایک مجوسی غلام جو پہلی صف میں چھپ کر کھڑا تھااس نے موقع پاتے ہی ایک دودھاری تيز خنجرسے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حملہ کردیا۔ حضرت سیدناعمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز سنائی دی کہ مجھے کسی کُتےّ نے قتل کردیا یا کاٹ لیا ہے وہ مجوسی غلام حملہ کرنے کے بعد پیچھے پلٹا اور بھاگتے ہوئے تیرہ نماز یوں پر حملہ کیا جن میں سے سات شہید ہوگئے ،ایک نمازی نے آگے بڑھ کر اس پر کپڑا ڈالا اور اسے پکڑ لیا، جب اس بدبخت غلام نے دیکھا کہ اب میں پکڑا جاچکاہوں ،تو اپنے ہی خنجرسے خودکشی کر لی، جب حضرت سیدناعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حملہ ہوا تو صفوں میں دور دور کھڑے اکثر نمازی اس حملہ سے بے خبر تھے جب انہوں نے حضر ت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراء َت نہ سنی توسبحان اللہ ، سبحان اللہ کہنا شروع کردیا۔ حضرت سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آگے بڑھ کر نماز فجر پڑھائی ، اکثر لوگو ں کونماز کے بعد واقعہ کا علم ہوا۔ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شدید زخمی ہوچکے تھے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدناابن عباس رضی اللہ تعا لیٰ عنہما سے فرمایا:''اے ابن عباس رضی اللہ تعا لیٰ عنہما!معلوم کرو کہ مجھے کس نے زخمی کیا ہے؟ ''آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ باہر گئے ،کچھ دیر بعد واپس آکربتایا: ''مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام(ابولؤلؤہ فیروز) نے آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ پر حملہ کیا ہے ۔''
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''وہی غلام جو لوہار تھا ؟'' حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جواب دیا:''جی ہاں ۔ ' ' حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ''اللہ عزوجل اسے غارت کرے !میری اس سے کوئی دشمنی نہیں تھی ،بلکہ میں نے تو اسے نیکی کی دعوت دی تھی ، میں تو اس کے ساتھ بھلائی کا خواہاں تھا ۔ اللہ عزوجل کا شکر ہے کہ میں کسی مسلمان کے ہاتھوں زخمی نہ ہوا۔'' پھر آپ رضی
اللہ تعالیٰ عنہ کو گھرلے جایا گیا۔ حضرت سیدناعمر وبن میمون رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:'' ہم لوگ بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کی طر ف چل دیئے ۔ لوگو ں پر مصیبتوں کاپہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔گویا اس سے پہلے کبھی ایسی پریشانی اور مصیبت سے دو چار نہ ہوئے تھے۔ لوگ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تسلی دینے لگے:حضور! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر یشان نہ ہوں،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زخم جلد ہی ٹھیک ہوجائیں گے، پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوکھجور کی نبیزپلائی گئی لیکن وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیٹ سے زخموں کے ذریعے باہر آگئی۔ پھر دودھ پلایا گیا تو وہ بھی زخموں کے راستے پیٹ سے باہر نکل آیا ، لوگ سمجھ گئے کہ اب ہم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت سے زیادہ دیر تک فیضیاب نہ ہو سکیں گے۔
پھر لوگو ں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریف کرنا شروع کردی، ایک نوجوان آکرکہنے لگا: ''اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ! آپ کو مبارک ہو کہ عنقریب اللہ عزوجل آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پہلے رِحلت فرمانے والے دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ملا دے گا ۔اے امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ! آپ کو خلافت کا منصب عطا کیا گیا تو آپ رضی اللہ