Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
37 - 410
    اس آیت میں صَدَّقَ بِہ ٖسے مراد صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ یاتمام مؤمنین ہیں ۔

    پھرحضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیم نے مزید فرمایا:'' اے صدیقِ اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ!جس وقت لوگوں نے بخل کیاآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سخاوت کی ،لوگوں نے مصائب وآلام میں رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کاساتھ چھوڑ دیا لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ رہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور نبی کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی صحبتِ با برکت سے بہت زیادہ فیضیاب ہوئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان تویہ ہے کہ ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوثانی اثنین کالقب ملا ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یارِغار ہیں ،اللہ عزوجل نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر سکینہ نازل فرمایا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی ئکریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ ہجرت فر مائی، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے رفیق وامین اور خلیفہ فی الدین تھے، آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے خلافت کاحق اداکیا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مرتدوں سے جہادکیا، حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے وصا لِ ظا ہری کے بعد لوگوں کے لئے سہارا بنے، جب لوگو ں میں اُداسی اور مایوسی پھیلنے لگی تو اس وقت بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوصلے بلند رہے۔لوگو ں نے اپنے اسلام کوچھپایالیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ایمان کااظہار کیا،جب لوگوں میں کمزوری آئی توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو تقویت بخشی،ان کی حوصلہ افزائی فرمائی اور انہیں سنبھالا۔

    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیشہ نبی کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی سنتوں کی اتباع کی ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے خلیفہ بر حق تھے ،منافقین وکفار آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوصلوں کو پست نہ کر سکے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کفارکو ذلیل کیا،باغیوں پر خوب شدت کی ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کفار ومنافقین کے لئے غیض وغضب کاپہاڑ تھے ۔ لوگوں نے دینی اُمور میں سستی کی لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بخوشی دین پرعمل کیا۔لوگوں نے حق بات سے خاموشی اختیار کی مگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے علی الاعلان کلمہ حق کہا،جب لوگ اندھیروں میں بھٹکنے لگے توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات ان کے لئے منارہ نور ثابت ہوئی۔ انہو ں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف رُخ کیااور کامیاب ہوئے ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے زیادہ ذہین وفتین،اعلیٰ کِردار کے مالک،سچے ،خاموش طبیعت،دور اَندیش، اچھی رائے کے مالک، بہادر اور سب سے زیادہ پاکیزہ خصلت تھے ۔ 

    خداعزوجل کی قسم! جب لوگو ں نے دین اسلام سے دوری اختیار کی توسب سے پہلے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی نے اسلا م قبول کیا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمانوں کے سردار تھے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں پر مشفق باپ کی طرح شفقتیں فرمائیں، جس بوجھ سے وہ لوگ تھک کر نڈھال ہوگئے تھے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں سہارادیتے ہوئے وہ بوجھ اپنے کندھوں پر لاد لیا۔ جب لوگوں نے بے پروائی کامظاہرہ کیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قوم کی باگ ڈورسنبھالی ،جس چیزسے لوگ بے خبر تھے آ پ رضی اللہ