Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
36 - 410
حکایت نمبر 6:          فضائلِ صدیق اکبربزبانِ مولیٰ علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہما
    حضرت سیدنا اُسیدبن صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:'' جب حضر ت سیدناصدیق اکبر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کاوصال ہوا تومدینے کی فضا میں رنج وغم کے آثار تھے،ہر شخص شدَّتِ غم سے نڈھال تھا،ہر آنکھ سے اشک رواں تھے، صحابہ کرام علیہم الرضوان پر اسی طرح پریشانی کے آثار تھے جیسے حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے وصال ظاہری کے وقت تھے، سارا مدینہ غم میں ڈوبا ہواتھا۔پھر جب حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غسل دینے کے بعد کفن پہنایاگیاتو حضرت سیدناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم تشریف لائے، اورکہنے لگے: آج کے دن نبی آخرالزماں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے خلیفہ ہم سے رخصت ہو گئے۔پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس کھڑے ہوگئے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:''اے صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ! اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے، آپ رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے بہترین رفیق ، اچھے محب ،بااعتماد رفیق اورمحبوب خداعزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے رازداں تھے۔ حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشورہ فرمایاکرتے تھے،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں میں سب سے پہلے مؤمن ، ایمان میں سب سے زیادہ مخلص، پختہ یقین رکھنے والے اور متقی و پرہیزگار تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دین کے معاملات میں بہت زیادہ سخی اور اللہ کے رسول عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے سب سے زیادہ قریبی دوست تھے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت سب سے اچھی تھی، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کامرتبہ سب سے بلند تھا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے لئے بہترین واسطہ تھے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اندازِخیر خواہی ،دعوت وتبلیغ کاطریقہ ، شفقتیں اور عطائیں رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرح تھیں، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے بہت زیادہ خدمت گزار تھے۔ اللہ عزوجل آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کواپنے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّماور اسلام کی خدمت کی بہترین جزاء عطافرمائے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دینِ متین اور نبی ئکریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بہت زیادہ خدمت کی، اللہ عزوجل اپنی رحمت کے شایانِ شان آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جزاء عطافرمائے ۔(آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)

    جس وقت لوگوں نے رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوجھٹلایا توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلَّم کی تصدیق فرمائی ،حضور نبی کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ہر فرمان کو حق وسچ جانااور ہرمعاملے میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تصدیق فرما ئی، اللہ عزوجل نے قرآ نِ کریم میں آپ کو صدیق کالقب عطافرمایا فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
وَالَّذِیۡ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِہٖۤ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُتَّقُوۡنَ ﴿33﴾
ترجمہ کنزالایمان:اوروہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی یہی ڈر والے ہیں۔(پ24،الزمر :33)
Flag Counter