Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
359 - 410
دیکھا کہ وہاں نورانی چہرے والا ایک حسین وجمیل نوجوان اُون کا جبّہ پہنے بڑے خشوع وخضوع سے نماز پڑھ رہا تھا۔ میں اس کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔ اس نوجوان نے رکوع وسجود کے بعد سلام پھیرا اور میری جانب متوجہ ہوا ۔ میں نے سلام کیا اس نے جواب دیا۔ میں نے اس سے پوچھا :''اے میرے بھائی ! آپ کہاں کے رہنے والے ہیں ؟ ''اس نے کہا :''میں ملکِ ''شام ''کا رہائشی ہوں ۔ '' میں نے پوچھا :'' آپ شام سے بصرہ کس مقصد کے لئے آئے ہیں؟'' اس نے جواب دیا:'' میں نے سنا تھا کہ بصرہ اوراس کے قریبی علاقوں میں عابدین وزاہدین اور باعمل علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ بہت زیادہ ہیں۔ چنانچہ میں شام سے بصرہ چلا آیا تاکہ ان اولیاء کرام رحہم اللہ تعالیٰ سے اکتسابِ فیض کرسکوں اوران سے علم وعمل سیکھوں ۔ ''

    میں نے اس سے پوچھا: ''اے بندئہ خدا عزوجل !تمہارے کھانے پینے کا اِنتظام کس طرح ہوتاہے؟ یہاں جنگل میں تمہیں کھاناکیسے میسر آتاہوگا؟''اس نے جواب دیا:'' جب بھوک لگتی ہے تو درختوں کے پتے کھالیتاہوں اورجب پیاس محسوس ہوتی ہے توجنگل میں موجودتالابوں سے پانی پی لیتاہوں۔''میں نے کہا:'' اے نوجوان ! میری خواہش ہے کہ میں تمہیں عمدہ آٹے کی دو روٹیاں پیش کردیا کروں تاکہ تم انہیں کھا کر عبادت پر قوت حاصل کرسکو ۔''تو وہ نوجوان کہنے لگا:'' ایسی باتیں چھوڑو ، میں نے کئی سالوں سے کھانا نہیں کھایا، پتے کھاکر ہی گزارہ کررہا ہوں۔'' میں نے کہا :''اے میرے بھائی! ''اگر تم ہمارے کھانے کو قبول کرلو گے تو ہماری خوش قسمتی ہوگی ۔ تم ہماری طرف سے کچھ نہ کچھ قبول کرلو تاکہ ہمیں برکتیں حاصل ہوں ۔ '' وہ نوجوان بولا: ''اچھا اگر تم بضد ہوتو جَو کے بغیر چھنے آٹے کی دو روٹیاں لے آؤ اور سالن کی جگہ نمک لانا۔ ''

    حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:پھر میں اس نوجوا ن کے پاس سے چلا آیا اور ''جَو ''کے بغیر چھنے آٹے کی دو روٹیاں پکوائیں، ان پرنمک رکھا اورواپس اسی جنگل کی طرف چل دیا۔ جب میں غار کے قریب پہنچا تو وہاں کا منظردیکھ کر میں بہت حیران ہوا۔ میں نے دیکھا کہ ایک خونخوار شیر غار کے دہانے پر بیٹھا ہوا ہے ۔ میں نے دل میں کہا:ـ'' ایسا نہ ہو کہ اس خوانخوار درندے نے اس نوجوان کو مارڈالا ہو۔'' میں بہت پریشان ہوگیا تھا۔پھر میں ایک اونچی جگہ پر چڑھا جہاں سے غار کا اندرونی حصہ نظر آرہا تھا۔ مجھے یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ !وہ نوجوان صحیح وسالم ہے اوراپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں سربسجود ہے ۔ میں نے بلند آواز سے اسے پکارا:'' اے میرے بھائی ! تجھے کیا ہوگیا ہے کہ تُو اپنے آس پاس کے حالات سے بے خبر ہے؟ شاید عبادتِ الٰہی عزوجل میں مشغولیت کی وجہ سے تجھے باہر کے حالات کی خبر نہیں ۔'' میری یہ آواز سن کر اس نوجوان نے نماز میں تخفیف کی اور سلام پھیرنے کے بعد کہنے لگا:'' اے اللہ عزوجل کے بندے! تم نے ایسی کیا چیز دیکھ لی ہے جس کی وجہ سے تم اتنے پریشان ہو رہے ہو ؟''تو میں نے کہا:'' وہ دیکھو غار کے دہانے پر ایک خونخوار شیر گھات لگائے بیٹھا ہے