تیرے دین کی سربلندی کے لئے مانگ رہا ہوں۔ اے میرے مولیٰ عزوجل!میری دعا قبول فرما۔''
جب میں نے سجدے سے سر اُٹھا یاتودیکھاکہ وہ زمین جو ابھی کچھ دیرپہلے ویران تھی اوراس پر سبزہ نام کو نہ تھا،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ !اب وہ سرسبز وشاداب ہوچکی تھی ،ہر طرف ہریالی ہی ہریالی تھی اور کھجور کے چاروں طرف بہترین قسم کے پودے اُگے ہوئے تھے ۔
پھرمیں نے اس راہب سے پوچھا :''اے راہب! تجھے تیرے معبود کی قسم! سچ سچ بتا کہ تُو نے کن الفاظ کے ذریعے دعا کی اور کس سے دعا کی ؟''اس راہب نے جواب دیا: ''تمہارے یہاں آنے سے پہلے ہی اسلام کی محبت میرے دل میں پیدا ہو گئی تھی ۔ پھر جب تم نے نشانی دکھانے کے لئے کہا تو میں گرجا میں گیا اور تمہارے قبلہ (یعنی خانہ کعبہ)کی طرف سجدہ کیا پھر اس طرح دعا کی: ''اے میرے پروردگارعزوجل !جس دین محمدی کی محبت تُو نے میرے دل میں ڈالی ہے اگر وہ تیرے نزدیک حق وسچ اور مقبول ہے تو مجھے یہ نشانی دکھادے کہ تازہ پھلوں سے لدا ہواکھجور کا درخت اُگ آئے ۔'' میں نے ان ہی الفاظ کے ساتھ دعا مانگی تھی ۔
حضرت سیدنا حاتمِ اَصم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم نے اس راہب سے کہا :''ہمیں یہ دونوں نشانیاں ایک ہی ذات نے دکھائیں ہیں جو واقعی معبود حقیقی ہے ۔''
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی یہ باتیں سن کر اس راہب نے کہا:''حضور ! میں نصرانیت سے توبہ کرتاہوں اورسچے دل سے مسلمان ہوتا ہوں،پھر اس نے کلمہ شہادت پڑھا: