اورایسا لگتا ہے کہ وہ ابھی حملہ کردے گا ۔''
اس نے مجھے مخاطب کر تے ہوئے کہا :''اے خدا عزوجل کے بندے! اگر تُواس ذات سے ڈرتا جس نے اس شیر کو پیداکیا ہے تو یہ تیرے لئے بہت بہتر تھا۔ '' پھر اس نوجوان نے شیر کی طرف توجہ کی اورکہا:''اے درندے ! بے شک تُو اللہ عزوجل کے کتوں میں سے ایک کتاہے ۔ اگر تجھے بارگاہِ خداوندی عزوجل سے حکم ملا ہے کہ تُو مجھے کوئی نقصان پہنچائے تو پھرمیں تجھے روکنے کی قدرت نہیں رکھتا اور اگر تجھے اللہ ربُّ العزَّت کی طرف سے حکم نہیں ملاتو پھر مجھے تیرا کوئی خوف نہیں۔ پھر تیری بہتری اسی میں ہے کہ تُو یہاں سے چلا جا، تُو خواہ مخواہ میری اورمیرے بھائی کی ملاقات میں حائل ہورہا ہے ۔''
ابھی اس نیک خصلت نوجوان نے اپنی بات مکمل بھی نہ کی تھی کہ وہ شیر دہاڑنے لگا اوردم ہلاتا ہواوہاں سے اس طرح بھاگا جیسے اسے اپنا کوئی شکار نظر آگیا ہو۔جب شیر وہاں سے چلا گیا تو میں اس نوجوان کے پاس آیااوریہ کہتے ہوئے دونوں روٹیاں اس کے سامنے رکھ دیں کہ''اے میرے دوست ! جو چیز تُونے طلب کی تھی وہ حاضر ہے۔'' اس نے روٹیاں لیں اورانہیں حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگا پھر وہ رونے لگا،روتے روتے اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ پھر اس نے روٹیاں نیچے رکھ دیں اورآسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا :'' اے میرے پاک پروردگار عزوجل! میں تجھے تیرے عرشِ عظیم کا واسطہ دے کر التجاء کرتاہوں کہ اگر تیری بارگاہ میں میرا کچھ مرتبہ ومقام ہے اور میں تیری بارگاہ میں مردو دنہیں بلکہ مقبول ہوں تو اے میرے اللہ عزوجل ! مجھے اپنے قُربِ خاص میں بُلا لے اور میری ر وح قبض فرمالے ۔''
حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :'' ابھی اس نوجوان نے یہ دعا مکمل ہی کی تھی کہ فوراًاس کی بے قرار روح اس دُنیوی زندگی کی قید سے آزاد ہوکر عالَمِ بالا کی طرف پرواز کر گئی ۔'' میں واپس اپنے علاقے میں آیا اور چند متقی وپرہیزگار لوگوں کو جمع کیا تاکہ ہم اس نوجوان کی تجہیز وتکفین کرسکیں۔ میں اپنے ان ساتھیوں کو لے کر غار کی طرف چل دیا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ غار میں تو کوئی بھی موجود نہیں جس خوش نصیب نوجوان کی لاش کو میں ابھی ابھی یہاں چھوڑ کر گیا تھا اب وہاں اس کا نام ونشان بھی نہ تھا۔ میں بہت حیران وپریشان تھا کہ آخر اس کی لاش کہاں غائب ہو گئی۔ اچانک مجھے ایک غیبی آواز سنائی دی، کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا:'' اے ابوسعید (یہ حضرت سیدناحسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی کی کنیت تھی )!اپنے رفقاء سے کہو کہ وہ واپس چلے جائیں اب اس نوجوان کی لاش کبھی نہیں ملے گی کیونکہ اس کی لاش کو یہاں سے اٹھا لیا گیا ہے۔''
؎ جب تری یاد میں دنیا سے گیا ہے کوئی جان لینے کو دلہن بن کے قضا آئی ہے
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم