Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
348 - 410
آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد رفرمایا:'' جو شخص لوگو ں کا حاکم بنا کل بر وزِ قیامت اسے دوزخ کے پل پر کھڑا کیاجائے گا اس کے ہاتھ اس کی گر دن سے بندھے ہونگے اور اس وقت اس جسم کے تمام اعضاء جدا جدا ہوجائیں گے ،پھر دو بارہ اسے صحیح وسالم کھڑا کیاجائے گا ،پھر اس سے حساب لیا جائے گا ، اگر وہ نیک ہو اتو اپنی نیکیوں کی بدولت نجات پائے گا ، اگر گناہ گا ر ہو ا تو اس کی وجہ سے جہنم کی آگ میں گرجائے گا ۔''

    اس انصار ی سے یہ حدیث سن کر حضرت سیدنا عمر فارو ق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''تم نے یہ حدیث کس سے سنی ؟ عرض کی: حضرت سیدنا ابو ذر اور حضرت سیدناسلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے سنی ہے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں صحابہ کرام علیہم الرضوان کے پاس ایک قاصد بھیج کر تصدیق کروائی تو ان دونوں حضرات نے فرمایا :''واقعی ہم نے یہ حدیث پاک سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے سنی ہے۔'' 

    جب امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فارو ق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سنا تو فرمایا :''ہائے عمر! اب کون حاکم بنے گا ، ذمہ داریاں اب کون قبول کریگا؟'' یہ سن کرحضرت سیدنا ابوذر ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : ''وہی قبول کریگا جسکا چہرہ اللہ عزوجل زمین سے چپکا دے گا۔ ''
   (شعب الایمان للبیھقی، باب فی طاعۃ أولی الأمر، فصل فی نصیحۃ الولاۃ، الحدیث۷۴۱۵/۷۴۱۶،ج۶،ص۳۱تا۳۲)
    حضرت سیدنا امام عبدالرحمن بن عمر اوزاعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:'' میری یہ باتیں سن کر منصور نے رومال منگوایا اور اپنا چہرہ اس میں چھپا کر زارو قطار رونے لگا، اس کی حالت ایسی تھی کہ اس نے ہمیں بھی رُلادیا ۔ 

    اے خلیفہ منصور!امیرالمؤمنین حضر ت سیدنا عمر فارو ق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:'' حاکم وہی شخص بن سکتا ہے جو مضبوط عقل والا ، صاحب رائے ، شرم وحیا کا پیکر او راللہ عزوجل کے معاملے میں کسی ملامت گو کی ملامت سے نہ ڈرتا ہو۔

    پھر فرمایا:'' حکمران چار طرح کے ہوتے ہیں:

(۱)۔۔۔۔۔۔ وہ حاکم جو خود بھی گناہوں سے بچے اور اپنے عمّال(یعنی گورنروں) کو بھی گناہوں سے بچائے ،ایسا حاکم اس مجاہد کی طر ح ہے جو راہِ خدا عزوجل میں جہاد کرے ۔

(۲) ۔۔۔۔۔۔وہ حاکم جو خود توگناہوں سے دور رہتا ہو لیکن اپنے عمّال کو برائی سے روکنے میں سُستی سے کام لے اور انہیں گناہوں سے نہ روکے، تو ایسا حاکم ہلاکت کے بالکل قریب ہے، ہاں اگر اللہ عزوجل چاہے تو وہ ہلاکت و بربادی سے بچ سکتا ہے۔ 

(۳) ۔۔۔۔۔۔وہ حاکم جو اپنے عمّال کو تو گناہوں سے باز رکھے لیکن خود مرتکبِ معاصی ہوتو وہ '' حطمہ'' حاکم کی طر ح ہے ، جس کے بارے میں نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :'' سب سے
Flag Counter