Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
347 - 410
'' یہ سن کرحُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس کے لئے دعائے خیر فرمائی۔
(المستدرک، کتاب الرقاق، باب دعاالنبی  اعرابیا الی القصاص من نفسہ، الحدیث۸۰۱۳،ج۵،ص۴۷۱)
    اے خلیفہ منصور ! نفسانی خواہشات کی پیر وی چھوڑدو، اپنے نفس کو راضی کرنے کے بجائے خدا عزوجل کی رِضا کے طلب گار بنو ، اور اس جنت کی طرف رغبت کرو جس کی چوڑائی آسمانوں و زمین سے زیادہ ہے، اور جس جنت کے بارے میں سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا: ''( جنت میں) تم میں سے کسی کا ایک کمان پر قبضہ دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے۔''
 (صحیح البخاری، کتاب الجھاد، باب الحور العین وصفتھن، الحدیث۲۷۹۶،ص۲۲۵، لقید:بدلہ:لقاب)
    اے منصور ! بادشاہی اگر ہمیشہ رہنے والی شئے ہوتی تو تجھے ہر گز نہ ملتی، جس طر ح یہ تم سے پہلو ں کے پاس نہ رہی اسی طرح تمہارے پاس بھی نہ رہے گی ، تمہارے بعد کسی اور کو، پھر کسی او رکو، اور اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہے گا ۔

    اے خلیفہ! کیا تجھے معلوم ہے کہ تمہارے دادا حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس آیت کی کیا تشریح فرمائی:
مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَایُغَادِرُ صَغِیۡرَۃً وَّلَاکَبِیۡرَۃً اِلَّاۤ اَحْصٰىہَا ۚ
ترجمہ کنزالایمان:اس نوشتہ کو کیا ہوانہ اس نے کوئی چھوٹاگناہ چھوڑ ا نہ بڑاجسے گھیر نہ لیاہو۔(پ15، الکہف:49 )

    سنو ! انہوں نے فرمایا:'' اس آیت میں صغیرہ خطا سے مراد تبسّم اور کبیرہ خطا سے مراد ضحک (یعنی ہنسنا ہے) ہے ، اب ذرا سوچو کہ جو اعمال ہاتھوں اور زبان سے سرزد ہوتے ہیں تو ان کا کیا حال ہوگا ۔''

    امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فارو ق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کافرمان ہے:'' اگر دریائے فرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی مرجائے تو مجھے اس بات کا خوف ہے کہ کہیں مجھ سے اس کے بارے میں ( بر وزِ قیامت) سوال نہ کرلیا جائے ۔''

     اے منصور! تمہارے دور ِخلافت میں توکتنے لوگ ظلم وزیادتی کے شکار ہوئے ہیں تم بروزِ قیامت کیا جواب دو گے ؟

    اے خلیفہ !تم بہت بڑی آزمائش میں مبتلا کر دیئے گئے ہو ،یہ ذمہ داری جو تجھے سونپی گئی ہے اگر آسمانوں اور زمین کو سونپی جاتی تو وہ اسے لینے سے ڈرتے اور انکار کر دیتے ،مروی ہے کہ'' امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک انصاری کو صدقہ کے مال پر عامل مقرر کیا ، کچھ دنوں بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معلوم ہو ا کہ وہ انصاری شخص عامل بننے کے لئے تیار نہیں ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے بلایا اور فرمایا :''تجھے اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے کس بات نے روکا ؟ تمہیں معلوم نہیں کہ تمہاری اس ذمہ داری کاثواب ایسا ہے جیسا کہ اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا ، اس کے باوجود تم یہ ذمہ داری قبول نہیں کر رہے، آخر کیا وجہ ہے ؟ اس انصاری نے عرض کی: اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ! مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ رسولِ اکرم ،نور مجسم، شاہ بنی
Flag Counter