Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
349 - 410
زیادہ برا حاکم'' حطمہ''ہے ۔( یعنی یہ حاکم دوسرو ں کو تو گناہوں سے بچا تا رہا لیکن خود گناہوں میں منہمک رہا اور ہلاک ہوگیا ۔)
(شعب الایمان للبیھقی، باب فی طاعۃ أولی الأمر، فصل فی نصیحۃ الولاۃ، الحدیث۷۴۱۷/۷۴۱۸/۷۴۱۹، ج۶، ص۳۲ تا ۳۳)

(صحیح مسلم،کتاب الامارۃ، باب فضیلۃ الأمیر العادل وعقوبۃ الجائر۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۱۸۳۰،ص۱۰۰۶)
(۴) ۔۔۔۔۔۔وہ حاکم جو خود بھی گناہ کرے او راس کے عمّال بھی گناہ کریں تو یہ حاکم او رعمّال سب ہلاک ہونے والے ہیں۔

    اے ابو جعفر! مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ، ایک بار حضرت سیدنا جبرائیل امین علیہ السلامسیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃُ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں اس وقت آیا جب اللہ رب العزت نے (فرشتوں )کو حکم دیا کہ ، قیامت تک جہنم کی آگ بھڑکاتے رہو۔

     سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' میرے سامنے دوزخ کے کچھ احوال بیان کرو، عرض کی: ''یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! اللہ عزوجل نے ابتدأًدوزخ کی آگ بھڑکانے کا حکم دیا چنانچہ وہ ایک ہزار سال تک جلتی رہی یہاں تک کہ سرخ ہوگئی،پھرایک ہزار سال تک دوبارہ بھڑکایاگیا تو زرد ہوگئی،پھر ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیا تو سیاہ ہوگئی، اور اب وہ سیاہ،سخت اندھیرے والی ہے، اس کے شعلے اور انگاروں میں روشنی نہیں،اس پا ک پروردگار عزوجل کی قسم ! جس نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی نبی بر حق بنا کر بھیجا اگر جہنمیوں کے لباس کا ایک کپڑا بھی زمین والوں پر ظاہر کردیا جائے تو رو ئے زمین کے تمام لوگ ہلاک ہوجائیں، اگر جہنم کے پانی کا ایک قطرہ بھی زمین کے پانی میں ڈال دیا جائے توسارا پانی کڑوا ہوجائے اور جو بھی اسے چکھے وہ ہلاک ہوجائے ،اور جہنم کی وہ زنجیر یں جن کا تذکرہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے ،اگر ان میں سے ایک ذراع کے برابر بھی زمین کے تمام پہاڑوں پر ڈال دی جائے تو تمام پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں،او راگر جہنمیوں میں سے کوئی شخص جہنم سے باہر آجائے تو اس کی بد بو اور جلے ہوئے جسم کو دیکھ کر تمام لوگ ہلاک ہوجائیں۔ ''

     سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم یہ سن کر رونے لگے، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو روتا دیکھ کر حضرت سیدنا جبریل امین علیہ السلام بھی رونے لگے اور پھر عرض کی: یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!اللہ عزوجل نے تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صدقے آپ کے اگلوں، پچھلوں کے گناہ معاف فرمادیئے ہیں پھربھی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّماس قدر رو رہے ہیں ؟ یہ سن کررسولوں کے سالار دوعالم کے مالک ومختارباذنِ پروردگار ،شہنشاہِ ابرار عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''کیا میں اپنے رب عزوجل کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟

؎ فکرِ امت میں راتوں کو روتے رہے                     عاصیوں کے گناہوں کو دھوتے رہے

تم پہ قربان جاؤں مرے ماہ جبیں                        تم پہ ہردم کروڑوں درود وسلام
Flag Counter